نوجوانوں كو مقدس دفاع كے حقائق كا علم ہونا چاہئے

IQNA

قائد انقلاب اسلامی :

نوجوانوں كو مقدس دفاع كے حقائق كا علم ہونا چاہئے

14:03 - May 04, 2008
خبر کا کوڈ: 1648958
آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ ای نے كل شام صوبہ فارس كی رضا كار فورس (بسيج) اور پاسداران انقلاب فورس كے جوانوں سے خطاب كرتے ہوئے بسيج كو شجرہ طيبہ اور امام خمينی (رہ) كی خلاقيت كا نتيجہ قرار ديا۔
آپ نے فرمايا كہ علمی، ثقافتی، سماجی، دفاعی اور ديگر شعبوں میں اسلامی انقلاب كو بسيج اور مومن، پاكدامن اور بلند ہمت نوجوانوں كی ہميشہ ضرورت رہے گی۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب كو امام خمينی كی آواز پر قوم كے تمام طبقات كی صدائے لبيك كے ٹھاٹھیں مارتے سمندر كا ثمرہ قرار ديا اور فرمايا كہ مقدس دفاع كے دوران بھی یہی عظيم الشان منظر نظروں كے سامنے پھر گيا اور جس میں بھی بلند ہمتی اور پختہ عزم و ارادہ تھا، بسيج كی شكل میں وہ ميدان كارزار كی سمت بڑھا، یہ عظيم قومی ذخيرہ شجرہ طيبہ كی مانند سرزمين ايران میں گہرائی تك اپنی جڑیں پيوست كئے ہوئے ہے۔آپ نے ايمان، بلند ہمتی اور اخلاص كو بسيج كے بنيادی عناصر قرار ديا اور فرمايا كہ امام (خمينی رہ) كا یہ فن تھا كہ آپ نے ملت كے مقدس اور مخلصانہ جذبات كو ايك تنظيم كی شكل میں ڈھال ديا۔ قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ ای نے پاسداران انقلاب فورس كو بھی ممتاز اور ہر مرحلے میں پيش قدم بسيجيوں كا ادارہ قرار ديا اور فرمايا كہ یہ بسيج اور بسيجيوں كے وجود كی بركت كا ہی نتيجہ تھا كہ جنگ كے ابتدائی سالوں میں سخت ترين حالات میں بھی انقلاب كو ضعف كا احساس نہیں ہونے پايا، بسيجی جوانوں كی پر جوش فعاليت سے دلوں میں ہميشہ اميد كی روشنی چھائی رہی۔ قائد انقلاب اسلامی نے بسيج سے تعلق ركھنے والے نوجوانوں كو بسيجی شہدا كی شجاعت و دلاوری سے آشنائی اور اس بارے میں مطالعے كی ہدايت كی اور فرمايا كہ آج نوجوانوں كو مقدس دفاع كے حقائق كی معرفت ہونا ضروری ہے تاكہ بسيج كی اہميت اور ارزش كا بخوبی اندازہ ہو سكے۔ قائد انقلاب اسلامی نے بسيج میں ممتاز علمی، ثقافتی اور سياسی شخصيات كی شموليت كو اس كی توانائی كا راز قرار ديا اور فرمايا كہ اس قابل ستائش صلاحيت سے پتہ چلتا ہے كہ ملك كے دفاع اور دشمن كے فوجی، سياسی اور اقتصادی خطروں كے مقابلے تك ہی بسيج كی سرگرمياں محدود نہیں ہیں بلكہ جہاں بھی اسلام اور انقلاب كو بلند ہمت اور كارساز نوجوانوں كی ضرورت ہے بسيج كے اركان وہاں پہلے سے موجود ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ ای نے ملت ايران كی حريت پسندی اور امنگوں كی تكميل كے لئے اس كی سعی پیہم سے دنيا كی تسلط پسند اور سامراجی طاتوں كی دشمنی كی جانب اشارہ كيا اور فرمايا كہ دشمن، مختلف بہانوں سے ايران اور اسلام مخالف پروپگنڈہ جاری ركھے ہوئے ہے اور اس كو مسلسل وسعت دے رہا ہے ليكن بيدار ايرانی قوم اور نوجوان دشمن كے مقابلے میں بدستور سيسہ پلائی ہوئی ديوار بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے اللہ تعالی كی ذات پر توكل اور اسی كے زير سایہ اپنی اندرونی صلاحيتوں پر اعتماد كو اسلامی نظام كی استقامت و پيش رفت كا اہم سبب قرار ديا فرمايا كہ اللہ تعالی كی نصرت و مدد سے مختلف عوامی طبقات ضرورت كے وقت ہميشہ ميدان عمل میں موجود رہے ہیں جس كی ايك مثال شجاع قبائلی بسيج كی ہے۔ يقينا تاريخ كے ہر دور میں قبائل علما اور اسلام كے حامی رہے ہیں۔ آپ نے دينی تعليمات اور حقائق سے آگاہی اور ايمان كی بنيادوں میں مسلسل استحكام كو بسيج كی روز افزوں ترقی اور آئندہ نسلوں میں اس كی مقبوليت كا باعث قرار ديا اور فرمايا كہ نوجوان، ملك كے مستقبل كی اميدیں ہیں اور ان نوجوانوں میں بلند حوصلے والے نوجوانوں سے قوم كی اميدیں زيادہ وابستہ ہیں اور يقينا بسيج میں ايسے ہی نوجوان موجود ہیں۔
نظرات بینندگان
captcha