بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے خبررساں ايجنسی "برناما" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اس دو روزہ سيمينار میں ﴿كہ جس كا انعقاد ملائيشيا كے ادارہ اوقاف اور اس ملك كی وزارت اوقاف و حج و زكات نے باہمی تعاون سے كيا ہے﴾ مختلف اسلامی ممالك كے نمائندے شركت كر رہے ہیں۔ اس سيمينار كی افتتاحی تقريب میں ملائيشيا كے وزير اعظم " عبداللہ بدادی" كا پيغام پڑھ كر سنايا گيا جس میں انھوں نے تاكيد كی كہ اگر وقف سے بہتر انداز میں استفادہ كيا جائے تو امت اسلامی كے فقر كا خاتمہ كيا جا سكتا ہے اور سياسی و اقتصادی طور پر مسلم ممالك مضبوط ہو سكتے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ دولت مند افراد وقف كے ذريعے اسلامی معاشرے كی ترقی میں سھيم بن سكتے ہیں۔ حفظ قرآن كی عالمی انجمن كے سربراہ نے ايك پروقار تقريب میں﴿كہ جس كا اہتمام الازہر يونيورسٹی اور تبليغات اسلامی كی بين الاقوامی كونسل نے باہمی تعاون سے قاہرہ میں كيا تھا﴾ آٹھ سال سے كم عمر كے ۱۰ حفاظ كو خراج تحسين پيش كيا۔ عبداللہ بصفر نے اس تقريب میں خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اس وقت تك اس انجمن سے وابستہ قرآنی مراكز میں ۲۱ ہزار خواتين و حضرات حفاظ فارغ التحصيل ہو چكے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ ۱۹۸۹ء میں سعودی عرب میں اس انجمن نے اپنی سرگرميوں كا آغاز كيا تھا اور اس وقت دنيا كے ۶۰ سے زائد ممالك میں اس كی شاخیں موجود ہیں۔ عبداللہ بصفر نے اپنی گفتگو كے اختتام پر كہا اس سال دنيا كے مختلف ممالك میں اس انجمن كے تعاون سے حفظ قرآن كے ۶ مقابلے منعقد كئے گئے جن میں ۳۰۰۰قراء اور حفاظ نے شركت كی۔
280617