بحرین میں عزاداری پر پابندیوں کے خلاف احتجاج

IQNA

بحرین میں عزاداری پر پابندیوں کے خلاف احتجاج

6:26 - June 25, 2026
خبر کا کوڈ: 3520366
ایکنا: بحرین میں متعدد حسینیوں اور عزاداری کی مجالس نے آل خلیفہ حکومت کی جانب سے محرم اور عاشورائی مراسم کے انعقاد پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں اور اقدامات کی مذمت کی ہے۔

ایکنا نیوز- مرآۃ البحرین نیوز کے مطابق بحرین کی 55 مجالسِ عزا اور حسینیوں کے نمائندوں نے اسلامی اوقاف کونسل کے نائب صدر یوسف الصالح کو ایک خط ارسال کیا، جس میں جعفری اوقاف کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے محرم الحرام 1448 ہجری کے مراسم کے انعقاد کے لیے جاری کردہ ہدایات اور ضوابط پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

خط پر دستخط کرنے والوں نے وضاحت کی کہ ان نئے ضوابط میں بعض خطباء اور قراء کو مجالس اور جلوسوں میں شرکت سے روکنا، جلوسوں کو صرف 7 سے 10 محرم کے درمیان محدود کرنا، اور محرم کی تقریبات پر نئی انتظامی پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ ان پابندیوں میں مجالس اور دیگر پروگراموں کے اختتام کے لیے مخصوص اوقات مقرر کرنا بھی شامل ہے، جبکہ یہ تمام فیصلے مجالسِ عزا، حسینیوں اور متعلقہ فریقوں سے پیشگی مشاورت کے بغیر کیے گئے ہیں۔

دستخط کنندگان نے اپنے خط میں زور دیا کہ حسینی شعائر بحرین کے معاشرے کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی ورثے کا ایک گہرا اور بنیادی حصہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلان کردہ اقدامات پر نظرثانی کی جائے اور عزاداری کے اجتماعات اور جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ مکالمے اور ہم آہنگی کے راستے کھولے جائیں تاکہ موجودہ مسائل کا حل نکالا جا سکے اور شہریوں کے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آل خلیفہ حکومت نے عزاداری تنظیموں اور حسینیوں کے ذمہ داران کو طلب کرنے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر وزیر داخلہ کے ساتھ ہونے والی متنازع ملاقات کو بحرین کی سیاسی جماعت الوفاق نے "شیعہ معاشرے کے خلاف اعلانِ جنگ" قرار دیا تھا، کیونکہ اس کے مطابق ان اقدامات میں شیعہ برادری کی مذہبی آزادی اور نجی امور میں مداخلت کے پہلو موجود تھے۔

تاہم محرم کے ابتدائی دنوں میں بحرین میں رونما ہونے والے واقعات نے عملی طور پر ان پابندیوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ عوام نے بڑی تعداد میں مجالسِ عزا اور جلوسوں میں شرکت کرکے ان فیصلوں کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کیا، خصوصاً دارالحکومت منامہ میں عزاداروں کی غیرمعمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔

محرم کے آغاز پر عوامی شرکت کے اس وسیع مظاہرے نے یہ ظاہر کیا کہ حکومتی ادارے اپنی دھمکیوں اور پابندیوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کے کئی ہفتوں کے باوجود، محرم کی تقریبات دیہاتوں اور شہروں میں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ البتہ متعدد عزاداروں کی گرفتاریوں نے ان سرکاری دعوؤں کی کمزوری کو بھی آشکار کیا جن میں مذہبی مراسم کی حمایت اور آزادی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔/

 

4360240

نظرات بینندگان
captcha