ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کے مطابق، اسعد دوراکووچ کی بوسنیائی زبان میں قرآنِ کریم کی مشہور ترجمانی کی اشاعت کو بیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کی کتاب "قرآن کریم با ترجمہ به زبان بوسنیایی" (Kuran s prijevodom) سن 2004 میں سارایوو میں شائع ہوئی تھی اور متعدد ماہرین اسے بوسنیائی زبان میں قرآن کا بہترین ترجمہ قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے 2025 کے اواخر میں اس ترجمے کا دوسرا اور نظرثانی شدہ ایڈیشن شائع کیا، جس کی تکمیل میں تقریباً دو دہائیاں صرف ہوئیں۔ یہ نسخہ استنبول کے سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز کی نگرانی میں شائع کیا گیا۔
1948 میں پیدا ہونے والے دوراکووچ عربی اور اسلامی مطالعات کے ممتاز ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان سے قبل بوسنیائی زبان میں قرآن کے سات مکمل تراجم موجود تھے، لیکن ان کی توجہ زیادہ تر معانی کی منتقلی پر تھی، جبکہ قرآن کے منفرد ادبی، بلاغی اور اسلوبی پہلوؤں کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی تھی۔

دوراکووچ کے مطابق ان کے ترجمے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مکی سورتوں کا ترجمہ ایک شاعرانہ انداز میں کیا ہے، جہاں معنی کے ساتھ ساتھ آہنگ اور قافیہ کی خوبصورتی کو بھی محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے برعکس مدنی سورتوں کے ترجمے میں طویل اور وضاحتی جملے استعمال کیے گئے ہیں تاکہ ان کے مخصوص اسلوب اور مفاہیم کو بہتر انداز میں منتقل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ترجمے کی ایک اور اہم خوبی لفظی ترجمے سے گریز اور بنیادی قرآنی مفاہیم کی دانشمندانہ تشریح ہے، جس کے باعث یہ ترجمہ بوسنیا اور ہمسایہ ممالک کے عام قارئین کے لیے زیادہ قابلِ فہم اور قابلِ استفادہ بن گیا ہے۔

اسعد دوراکووچ نے قرآن کے ترجمے کی حدود پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے، جبکہ ترجمہ انسان کا کلام ہوتا ہے۔ مترجم پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ کلامِ الٰہی کے کمال کے قریب پہنچ سکے، لیکن وہ مکمل طور پر اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں مؤمنوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، صرف خوفِ خدا کو اجاگر کرنا کافی نہیں۔ ان کے بقول محبت انسان کو نیکی اور مثبت اعمال کی طرف راغب کرتی ہے، جبکہ محض خوف بعض اوقات جمود اور منفی رویوں کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور وہ اسے دوسروں پر مسلط نہیں کرنا چاہتے۔/
4332553