بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق " Saphirnews" نے لكھا ہے كہ دينی ادارہ حميد اللہ كے جنرل سيكرٹری پريز امٹ " نے اس اجلاس كے آغاز میں اديان كے مابين گفتگو كی اہميت پر روشنی ڈالتےہوئے كہا كہ اب وہ وقت آپہنچا ہے كہ چھوٹے مسائل سےبڑے فوائد حاصل كیے جائیں اديان كے مابين گفتگو بظاہر بہت سادہ نظر آتی ہے كيونكہ مسلمانوں ، یہوديوں اور عيسائيوں كےدرميان بہت سارےمشتركات پائے جاتے ہیں اور یہی امر اس گفتگو كو سادگی كی طرف لے جاتا ہے۔ انھوں نے كہا كہ اديان كےمابين گفتگو فرانسيسی معاشرےكےلیےبہت مفيد ہے۔ اور اس بات چيت كی بنياد قرآنی آيات میں موجود ہے جس كی طرف سورہ حجرات كی آيت نمبر ۱۳ اشارہ كر رہی ہے كہ جس میں لوگوں سےكہا گيا ہے كہ ا نہیں ايك مذكر اور مونث سےپيدا كيا گيا ہے۔ اور پھر اسے شعوب اور قبائل میں اس لیے قرار ديا گيا تاكہ یہ ان كی پہچان كا سبب بنے۔ اور خدا كےنزديك بہترين وہی ہےجو متقی ہو۔ انھوں نے مزيد كہا كہ حميد اللہ وہ شخص تھا جس نے پہلی بار پورےقرآن كا فرانسيسی زبان میں ترجمہ كيا اور غير مسلم فرانسيسيوں كو اسلام سےآشنائی كا فريضہ انجام ديا وہ مساجد ، كليسا، اور یہودی معابد میں جايا كرتےتھے اور حقيقی اسلام كو سب كے لیے بيان كيا كرتےتھے جس سے فرانس میں موجود مختلف اديان كےپيروكاروں كےدرميان دوستانہ تعلقات قائم ہوئے۔ انھوں نے كہا كہ اب حالات كا تقاضا یہی ہے كہ مختلف اديان كے پيروكار باہمی گفتگو كےذريعہ مشكلات كو حل كرنے كی كوشش كریں۔ اس سےايك دوسرے كےمقدسات كو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔
331175