بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق سعودی اخبار" الاقتصادیہ" نے لكھا ہے كہ ہالينڈ كی ماہرقانون "مارلس ٹربيرك" نے ايك علمی تحقيق شائع كی ہے جس میں لكھا ہے كہ قرآن كريم نے عورت كی عزت وعظمت اورحقوق كے تحفظ پر بہت زيادہ زورديا ہے ۔ مذكورہ تحقيق میں محقق خاتون نے حقوق نسواں كے حوالے سےقرآنی تعليمات اور توريت انجيل كے متون كا تقابلی جائزہ ليا ہے ۔ انھوں نے لكھا ہے كہ بعض مغربی اسكالرحقوق نسواں كے حوالے سے قرآن كو مورد الزام ٹھراتے ہیںحالانكہ قرآن مجيد میں خواتين سےمتعلق تمام آيات میں خواتين كےسماجی حقوق كے تحفظ كی تاكيد كی گئی ہے۔ قرآنی تعليمات ديگرمقدس كتب سے بہت زيادہ پيشرفتہ ہیں كيونكہ قرآن مجيد ان كتب مقدس سے صديوں بعد ايك كامل اورمكمل كتاب كی صورت میں نازل ہوا ہے۔انھوں نے اپنی تحقيق میں عورت كے معاشی مسائل كا اسلام اورعيسائيت كی نگاہ سے جائزہ ليا ہے جس میں انھوں نے لكھا ہے كہ عيسائيت كے نزديك عورت كو روزی كمانےكا حق ہے ليكن اس كا باپ يا شوہر عورت كے مال میں تصرف كا حق ركھتے ہیں جبكہ اسلام نے عورتوں كےلیے شادی كے بعد حق مہرمتعين كيا ہے جس میں صرف وہ خود ہی تصرف كر سكتی ہے اور اس كے علاوہ بھی عورت كومعاشی استقلال حاصل ہے۔
348955