بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" " العربیہ نیٹ" كے مطابق یہ آئين تين ابواب اور ۴۱۱ شقوں پر مشتمل ہے۔ جس میں فتوے كے اصول، ضرورت اور اس كے مختلف مراحل بيان كیے گئے ہیں۔ اس آئين كی پہلی شق میں تمام مفتيوں كو خبردار كيا گيا ہے كہ وہ جس مسئلہ كو اسلامی شريعت اور اس كے اصولوں كے مطابق استنباط كرنے سے قاصر ہوں ايسے مسئلہ میں فتوی دينے سے گريز كریں۔ آئين كے دوسرے بند میں فتوے كے مختلف مراحل بيان كرتےہوئے آيا ہے كہ كسی بھی مفتی كو كسی مسلمان كے بارے میں كفر كا فتوا دينے كا حق حاصل نہیں اگر اس شخص كی رفتارو گفتار اسلامی شريعت سے متصادم ہوں تو پھر فتوا ديا جا سكتا ہے۔ آئين میں ايسے فتووں سے بھی گريز كا حكم ہے جس سے بعض فتنہ پسند لوگ سوء استفادہ كركے مسلمانوں میں خون خرابے كا باعث بنیں۔ اس كے علاوہ آئين میں مفتی كی شرائط بيان كرتے ہوئے آياہے كہ مفتی كو صبرو حوصلہ ، دينی احكام كو استنباط كرنے كی صلاحيت ،ثابت قدم اور روز مرہ زندگی میں پيش آنے والے معاملات پر گہری نظر ركھنے والا ہونا چاہیے۔
352096