بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نيوز چينل " راصد" كےمطابق سعودی عرب كی معروف شيعہ شخصيت علی الدھنين نے بتايا كہ مدرسہ " الاحساء" كے ممتاز عالم دين اور الجعفریھ عدالت كے سابق جج " شيخ محمد الہاجری" كے نام سےجانا اور پہچانا جائيگا۔ انھوں نے كہا كہ مدرسہ میں علم صرف ، نحو، فقہ، اصول، اديان و مذاہب ، علوم قرآن وتفسير ، فلسفہ اخلاق اور اسلامی اخلاق،نہج البلاغہ و حديث، تاريخ اسلام، عقائد اور منطق كی تعليم دی جائيگی۔ علی الدھنين نے وضاحت كی كہ " الاحساء" كا یہ جديد مدرسہ حوزہ علمیہ نجف اشرف اور حوزہ علمیہ قم كے بعد عالم تشيع كا سب سے بڑا مدرسہ شمار ہوگا مدرسہ میں " طاہر السلمان" اور " علی الناصر" جيسے ممتاز اور نامور اساتذہ تدريس كے فرائض انجام دیں گے۔ آخر میں انھوں نے بتايا كہ مدرسہ كی نظارت شيخ محمد ہاجری كےفرزند شيخ باقر المہاجری كریں گے اور عنقريب قطيف اور دمام میں بھی اس طرح كے جديد مدارس قائم كیے جائیں گے۔ پچھلے كچھ سالوں سے سعودی حكومت كی جانب سے شيعہ اكثريت والے شہروں میں موجود مدارس پر سخت پابندياں عايد كر دی ہیں۔
355880