بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق "Islam Oline" ويب سائٹ نے لكھاہے كہ روزنامہ گارڈين نے اپنے ايك مضمون میں اس خبر كی طرف اشارہ كيا ہے كہ آئندہ ہفتے میں دہشت گردی كے خلاف ايك نيا منصوبہ " جدال دو" كے نام سے سامنے آنے والا ہے گارڈين كی رپورٹ كے مطابق برطانوی حكومت شدت پسندی كےمفہوم كو مزيد وسيع كرنے كے درپے ہے اور ان تمام افراد كو شدت پسند سمجھا جائے گاجو برطانوی اقدار كی مخالفت كرتےہیں۔ اس منصوبے كی روشنی میں وہ مسلمان جو اپنی شريعت كی ترويج كریں۔ ہم جنس بازی كو برا سمجھیں اور اسلامی حكومت كی بات كریں وہ شدت پسند تصور كیے جائیں گے۔ جہاد پر عقيدہ ركھنے والے افراد بھی شدت پسندی كی فہرست میں آتے ہیں۔ اسی طرح جو افراد فلسطينيوں كا یہ حق سمجھتے ہیں كہ وہ قابض فوجوں كے خلاف لڑیں يا افغانستان اور عراق میں مارے جانے والے امريكی اور برطانوی فوجيوں كے قتل كی مذمت نہ كریں یہ سب شدت پسند سمجھے جائیں گے۔ دوسری طرف سے بعض حكومتی عہدہ داروں كا یہ بھی كہنا ہے كہ اس منصوبے سےدہشت گردی سےمقابلہ میں كوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ بلكہ عوام میں نفرت كا جذبہ مزيد بڑھے گا۔ ياد رہے كہ برطانیہ میں دو ملين مسلمان آباد ہیں جن میں سے اكثريت ايشيائی مسلمانوں كی ہے۔
365753