بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " Afriqueenligne" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ الازہر يونيورسٹی نے اس سے پہلے بھی اس جريدے كو اسلامی تعليمات كے خلاف مضامين شائع كرنے پر متنبہ كيا تھا۔ مصر كی عدالت نے كہا ہے كہ اس شعر میں خدا كی توہين ہوئی ہے اور میڈيا كی آزادی كا یہ مطلب نہیں ہے كہ جس كا دل چاہے وہ مذہبی اور دينی تعليمات كی توہين كرتا رہے۔ الازہر يونيورسٹی نے خدا اور اسلام كے خلاف شعر لكھنے والے شاعر " حلمی سالم" كے خلاف عدالت میں مقدمہ درج كيا ہے۔ ياد رہے كہ انسانی حقوق كے حامی اداروں نے مصری عدالت كے اس فيصلے پرنكتہ چينی كرتے ہوئے اس اقدام كو آزادی صحافت كے خلاف قرار ديا ہے اور كہا كہ اس جريدے كی اشاعت پر پابندی باعث بنے گی كہ مصر میں كوئی شخص اپنے ذاتی عقائد كا اظہار نہ كر سكے۔
385673