"الغدير" قرآنی سنٹر كے انچارج"ابوعلی مقدسی" نے قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" كو خصوصی انٹرويو ديتے ہوئے كہا ہے كہ مدارس میں طلباء كی قرآنی تعليمات كے لئے بہت كم وقت مختص كيا گيا ہے اورصحيح معنوں میں قرآنی ماہرين سے استفادہ بھی نہیں كيا جاتا۔ انہوں نے كہا كہ والدين اور بچوں كے سرپرستوں كو چاہیے كہ وہ اپنی اولاد میں قرآنی دلچسپی پيدا كریں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ معاشرے میں قرآنی محافل كے انعقاد میں كمی اسلامی معاشرے كی ايك بہت بڑی كمزوری شمار ہوتی ہے ۔ آخر میں انہوں نے كہا كہ قرآنی تعليم و تربيت كو عام كرنے كی اشد ضرورت ہے كيونكہ قرآن مجيد وہ تنھا كتاب ہے جو انسانی زندگی كے تمام پہلوؤں كو احاطہ كیے ہوئے ہے اور اس پر عمل كرنے سے دنيا وآخرت كی سعادت نصيب ہوتی ہے۔
436269