تنزانیہ كے مفتی اعظم شيخ "شعبان عيسی سيمبا" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی''ايكنا" كے تنزانیہ میں نامہ نگار سے بات چيت كے دوران تنزانیہ میں ايرانی مسلمانوں اور قرآنی نمائندوں كی آمد پر خوشی كا اظہار كرتے ہوئے اس ملك كے مسلمانوں كی مشكلات سے پردہ اٹھايا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ہم عرصہ دراز سے قرآن كريم كی تعليم دينے میں مشغول ہیں جبكہ ہماری بنيادی مشكل یہ ہے كہ تنزانیہ كی حكومت قرآنی ثقافت كی نشرواشاعت كے لئے ہماری كوئی امداد نہیں كرتی۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ہماری سب سے اہم ضرورت، تربيت معلم ہے۔ ہمارے لوگ قرآن كريم اور اس كی تعليم حاصل كرنے كے عاشق ہیں ليكن ہمارے پاس كوئی معلم نہیں ہے۔ تنزانیہ كے مفتی اعظم نے اس ملك كی دوسری سب سے بڑی مشكل عيسائيت كی ترويج كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ عيسائی امريكہ، برطانیہ، پرتگال، جرمنی جيسے ممالك كی امداد سے مذہب عيسائيت كو پھيلا رہے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ تنزانیہ كی ۴ كروڑ آبادی میں سے ۶۰ فيصد مسلمان ہیں جبكہ مالی طور پر مضبوط نہ ہونے كی وجہ سے اس ملك میں عيسائيت پھيل رہی ہے۔
460756