مزار شريف میں قرآنی انسٹیٹيوٹ شفا كے انچارج "سيد فضل اللہ قدسی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے نامہ نگار سے گفتگو كے دوران گزشتہ پانچ سالوں میں افغانستان میں ہونے والی قرآنی سرگرميوں كو اس ملك میں علوم قرآن كالج كی تاسيس كا سبب قرار ديا ہےاور كہا كہ افغانستان میں قرآنی سرگرميوں كے لئےحالات سازگار ہونے كی وجہ سے اس وقت قرآنی تعليم كے لئے ايك قرآنی علمی سلسلے كو شروع كرنے كی ضرورت ہے۔
اسی بناء پر مزار شريف میں ايك علوم قرآن كے كالج كی تاسيس كے درپے ہیں۔
قدسی نے مزيد كہا ہےكہ گزشتہ چند سالوں میں افغانستان میں قرآنی سرگرميوں كے بارے میں ديكھنے میں آيا ہےكہ وہ فقط چھوٹی سطح پر اور عارضی طور پر قرآن كريم سےارتباط تھا اور تقريباً صرف۲ سال سے اس ملك میں ايك منظم طريقے سے قرآنی سرگرميوں میں ترقی كا مشاہدہ كر رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں گزشتہ آٹھ سالوں كی قرآنی سرگرميوں اور لوگوں كی رغبت كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ لوگوں نے ان پروگراموں كو بہت زيادہ پسند كيا ہے اور انہوں نے واضح كر ديا ہے كہ مغربی ثقافتی يلغار كو روكنے كا واحد راستہ قرآن كريم ہے۔
467550