بين الاقوامی گروپ: مدينہ كی اسلامی يونيورسٹی كے انچارج "محمد بن علی العقلاء" نے ۳ جنوری كو مدينہ شہر میں "اسلامی وقف، ثقافتی اور اقتصادی ترقی میں اس كا كردار" كے موضوع پر ہونے والے تيسرے سيمينار میں خطاب كرتے ہوئے اسلامی وقف كو اسلامی تمدن كی ترقی اور سماجی انسجام كے تحقق كے لئے ايك بہترين ذريعہ قرار ديا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے سعودی روزنامہ "الوطن" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ مدينہ كی اسلامی يونيورسٹی كے انچارج "محمد بن علی العقلاء" نے اپنی تقرير میں كہا ہے كہ اگر اسلامی ممالك میں اسلامی وقف كے قوانين مستحكم ہوں اور ان پر خصوصی توجہ دی جائے تو معاشرے كے بہت سے رفاہی اور مالی اداروں كے وسائل پورے ہو سكتے ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اسلامی تہذيب وتمدن كے رُشد، سماجی، معاشی ترقی اور توسيع میں وقف كا بہت اہم كردار ہے جبكہ اسلامی معاشروں میں وقف كو اتنی اہميت نہیں دی جا رہی اور بعض اسلامی ممالك كے قوانين میں سے اسلامی وقف كو حذف كر ديا گيا ہے۔
518466