مرجع تقليد آيت اللہ زنجان نے بين الاقوامی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ خراسان رضوی سے گفتگو كرتے ہوئے اس مطلب كی وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ حوزہ كے طلباء كی تعليم كے راستے میں غفلت ہوئی ہے اور حوزہ كی قرآنی ميدان میں جتنی سرگرمياں ہونی چاہئیں تھی اتنی نہیں ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ افسوس اور شرمندگی سے كہنا پڑتا ہے كہ گزشتہ دور میں اگر كوئی تفسير قرآن كريم پڑہتا تھا تو یہ چيز اس كی علمی كمزوری شمار ہوتی تھی جبكہ تفسير آيات الاحكام ہميشہ احكام كا محور رہی ہے اور ہم خدا كے شكرگزار ہیں كہ اس نے امام(رح) كو مبعوث كيا اور اس غلط نظریہ كی اصلاح ہوئی۔
562727