بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے تركی كے روزنامہ "زمان" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ "اسلامی علوم كی ريسرچ انجمن" كی كوششوں سے تركی كی ديانت آرگنائزيشن كی جانب سے ۲۰۱۰ء كو قرآن مجيد كا سال قرار ديئے جانے كی مناسبت سے یہ نشست منعقد ہوئی ہے۔
تركی، قزاقستان، متحدہ عرب امارات، ليبيا، نائيجيريا، مصر، اسلامی جمہوریہ ايران اور تيونس كے الہيات كالجز كے اساتذہ، علماء اور دانشوروں نے اس نشست میں شركت كرتے ہوئے موجودہ دور میں قرآن كريم كا كردار، معاشرے كی مشكلات كے حل كے لئے دينی تعليمات كی اہميت، لوگوں كے معنوی جذبوں پر گلوبلائزيشن كی تاثير اور معنويت كے استحكام كا جائزہ ليا ہے۔
OIC كے سيكرٹری "اكمل الدين احسان اوغلو" نے اس نشست كی افتتاحی تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ قرآن كريم كی آيات كو صحيح سمجھنا سعادت كے حصول كا نقطہ آغاز ہے۔
قرآن كريم تمام انسانيت كے لئے الہی پيغام ہے اور ہر مسلمان كی ذمہ داری ہے كہ دنيا والوں كے سامنے اس پيغام كو اچھے طريقے سے پہچانے۔ اس نشست كے دوسرے حصہ میں ديگر ممالك كے شركاء نے قرآن كريم كے بارے میں اپنے مضامين پيش كرتے ہوئے كہا ہے كہ ہمیں اميد ہے كہ قرآن كريم اور سنت نبوی(ص) تمام مسلمانوں كی زندگی كا عملی نمونہ ہو گا۔
676430