بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق اسٹراسبرگ شہر كے ميئر كے مذہبی مشاور اوليور بيتز نے اس بارے میں گفتگو كرتے ہوئے بتايا كہ مسجد كی تعمير كی اجازت اس لیے دی گئی ہے كيونكہ شہر میں مسلمانوں كے لیے عبادت كرنے كےلیے كوئی جگہ نہیں تھی اس لیے وہ مجبور تھے كہ عوامی مقامات اور سڑكوں پر نماز ادا كریں۔ مسلمان شہريوں كی اس مشكل كو ديكھتے ہوئے ميونسپل كارپوريشن نے شہر میں مختلف مقامات پر دو مساجد كی تعمير كی اجازت دی ہے۔
اسٹراسبرگ شہر میں تعمير ہونے والی پہلی مسجد دس ايكڑ زمين پر بنائی جائے گی جس میںچھے سو سے ليكر آٹھ سو افراد كے نماز پڑھنے كی گنجائش ہوگی جس كی تعمير پو اڑھائی كروڑ يورو لاگت آئے گی اور دوسری مسجد ساڑھے چار ايكڑ زمين پر تعمير كی جائے گی جس پر تقريبا آٹھ لاكھ يورو سے زيادہ خرچ ہوگا۔
ياد رہے كہ ميونسپل كارپوريشن كی جانب مسجد كے تعمير كے لیے تين لاكھ يورو مختص كیے گئے ہیں۔
733437