بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق سعودی شيعوں كے روحانی پيشوا آيت اللہ محمد علی العمری مدينہ منورہ میں ساٹھ سال تك مذہبی و علمی خدمات انجام دينے كے بعد دعوت حق پر لبيك كہہ گئے ہیں۔
راصد نيوز چينل كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ محمد علی العمری ۱۶ سال كی عمر میں نجف اشرف گئے اور وہاں آيت اللہ محمد رضا مظفر، آيت اللہ محمد جواد مغنیہ اور آيت اللہ نائينی جيسی عظيم شخصيات كے سامنے زانوئے تلمذ تہہ كيا اور مدينہ منورہ واپس آكر مذہبی خدمات كا آغاز كيا اور سعودی عرب میں مكتب اہل بيت كے احياء میں اہم كردار ادا كيا۔
ياد رہے كہ آيت اللہ محمد علی العمری نے مدينہ منورہ میں مكتب اہل بيت كے احياء كے سلسلہ میں اہم خدمات انجام دی اور ان كی تعليم كے علاوہ ان كی معاشی حالت كی بہتری كے لیے بھی كار ہائے نماياں انجام ديئے۔
736267