قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق اس "lemauricien"ويب سائٹ سے نقل كيا ہے غير سركاری تنظيم (ريفارم)كے سربراہ زبيد كورمالی نے اپنے ايك بيان میں كہا مختلف ممالك كے فشار كی وجہ سے ان سيمينار كا انعقاد ممنوع قرار ديا ہے ، اور ہدموستان كے مسلمان مفكر ذاكر نانيك كو اس ملك میں ممنوع الورود قرار ديا ہے اس كے باوجود بھی یہ سيمينار اپنے وقت كے مطابق منعقد ہوگا۔
انہوں نے كہا ماريشس ايك آزاد ملك ہے اور اس میں ہر فرقہ اور مذہب كو اپنی سرگرميوں كی اجازت ہے۔ ابھی بعض فرقے اس ساينٓزر كے انعقاد میں ركاوٹ بن رہے ہیں۔
غير سركاری تنظيم كے سربراہ نے كہا یہ سيمينار ماريشس كے مسلمانوں كی طرف سے منعقد ہورہی ہے۔ اور اس كے اخراجات اسلامی مراكز اور مساجد كی طرف سے مہيا ہورہے ہیں۔ در حقيقت اس سيمينار كا مقصد مسلمانوں كو اسلامی تعليمات اور اسلامی اقدار سے بيش تر آشنائی كرانا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا مفكران اور دانشمندان كہ جو دنيا كے مختلف ممالك سے تشريف لائیں گے اس سيمينار میں عالم اسلام كی موجودہ صورتحال اور مشرق وسطی اور افريقہ كے عوامی انقلاب پر تبادلہ خيال كریں گے۔
948172