ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق، عالمی بينك كے حالیہ اعداد و شمار كے مطابق شام كی آبادی 20 ملين نفوس پر مشتمل ہے۔ شام مشرق وسطی میں ہونے والی جنگوں میں اسرائيل كے مقابلے میں كھڑا ہونے والا واحد عربی ملك ہے جس میں گذشتہ گيارہ ماہ سے مغربی دنيا اور عرب ممالك كی منافقانہ سياست كے باعث خونريزی جاری ہے۔
اس سازش كے تحت عرب ممالك میں شروع ہونے والی اسلامی بيداری كی تحريك كو بھی نقصان پہنچايا گيا ہے ليكن شام میں بشار اسد كی ہوشمندی كے سبب فتنہ گروں كو ناكامی ہوئی۔
يادرہے كہ بشار اسد علوی خاندان سے تعلق ركھتا ہے۔
بشار اسد كے اقدامات كی وجہ سے شام كا سياسی نظام عرب ممالك میں آزاد ترين نظام كہلائے گا۔ بشارالاسد نے شام میں بدامنی شروع ہوتے ہی ہنگامی حالت ختم كركے سپريم كورٹ كو تحليل كردياتھا اور نئے آئين كی تدوين كا حكم دے ديا تھا تاكہ شام ايك ايسا ملك بن جائے جہاں اسلامی احكام كی پابندی اور جمہوريت كا نظام برقرار ہوسكے۔
960519