ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "tempsreel"نيوز نیٹ ورك سے نقل كيا ہے كہ ہزاروں تيونسی مسلمان مرد و عورتوں نے گذشتہ روز پارليمنٹ كے سامنے مظاہرہ كيا ہے۔ جس میں مظاہرين نے تيونس میں اسلامی شريعت كے مطابق حكومت كے قيام كا مطالبہ كيا ہے اور دين سے سياست كی جدائی پر اعتراض كيا ۔مظاہرين نے ہاتھوں میں سياہ اور سفيد رنگ كے پرچم اٹھا ركھے تھے جن پر قرآنی آيات لكھی ہوئی تھیں۔
انہوں نے تيونسی حكمرانوں سے مطالبہ كيا كہ ملكی آئين میں اسلامی شريعت كو بنيادی حيثيت دی جائے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں سے ايك شخص نے میڈيا سے گفتگو كرتے ہوئے كہا اسلامی شريعت كو اس ملك كے آئين میں بنيادی حيثيت حاصل ہونی چاہئے۔ ہم تيونسی عوام ايسے قانون كو قبول نہیں كرتے جس میں اسلامی شريعت كو آئينی طور پر نہ مانا جائے كيونكہ اسلام ہمارا دين اور قرآن ہمارا آئين ہے۔
973109