قران گروپ : قرآن کریم کی رو سے انسان كے غم و رنج كا فلسفہ یہ ہے كہ جب انسان كسی چيز كی خواہش كرتاہے اوروہ پوری نہیں ہوتی تو اسے سمجھ لينا چاہيئے كہ كائنات میں اللہ كا ارادہ ہر چيز پر حاكم ہے اور یہ كائنات انسان كے ارادے سے نہیں بلكہ اللہ كے اردے سے رواں دواں ہے ۔ یہ كائںات ايك نظام كے ماتحت ہے اور اگر اس دنيا میں تمام انسانوں كی تمام خواہشات پوری ہو جاتیں تو یہ دنیا فنا و برباد ہوچكی ہوتی ۔
ايران كی قرآںی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "خود ساختہ عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
استاد فعالی نے اس بيان كے ساتھ كہ "رنج" كے حوالے سے قرآن اور بدھمت كے نظریے میں بنيادی فرق ہے خيال ظاہر كيا ہے كہ بدھمت انسانی زندگی كو سراسر رنج و غم سمجھتا ہے جبكہ قرآن كريم كی رو سے انسان كے ہر غم كے كنارے دسيوں ، سينكڑوں بلكہ بے شمار نعمتیں اور بركتیں موجود ہوتی ہیں۔
۹۵۹۲۹۹