قذافی نے امام موسی صدر كی شہادت كے تمام گواہوں كو قتل كراديا تھا

IQNA

قذافی نے امام موسی صدر كی شہادت كے تمام گواہوں كو قتل كراديا تھا

17:45 - March 27, 2012
خبر کا کوڈ: 2295190
بين الاقوامی گروپ: مصر كے معزول صدر حسنی مبارك نے امام موسی الصدر كی شہادت كا دعوی كيا ہے اس نے كہا كہ قذافی نے امام موسی صدر كی شہادت كے تمام گواہوں كو بھی قتل كراديا تھا فقط میں ہی اس واقعہ كا تاسی گواہ ہے یہ باتیں حسنی مبارك كی ذاتی ڈائری سے مصر كے ايك اخبار نے شائع كی ہیں۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "almanaralink"سے نقل كيا ہے كہ مصر كے معزول صدر حسنی مبارك كی ذاتی ڈائری كو مصری اخبار "اليوسف" شائع كررہا ہے اس ڈائری كے دسویں يادداشت میں لكھتا ہے كہ قذافی نے امام موسی صدر كو ايك تلخ گفتگو كے بعد قتل كرا ديا تھا۔
اس يادداشت میں مزيد لكھا ہے كہ قذافی نے امام موسی صدر كو رات كے كھانے پر مدعو كيا تھا جہاں پر قذافی نے امام موسی صدر كو لبنان كی داخلی خانہ جنگی كا ذمہ دار ٹھہرايا جس بنا پر دونوں میں تلخ كلامی ہوئی۔ قذافی نے اپنے محافظوں كو طلب كيا جنہوں نے امام موسی صدر اور ان كے ساتھيوں كو تشدد كا نشانہ بناتے ہوئے گرفتار كرليا تھا۔
حسنی مبارك كا كہنا ہے كہ قذافی چار گھنٹے خود تشدد كا نشانہ بناتا رہا جس كی وجہ سے امام موسی صدر بے ہوش ہوگئے۔ بعد میں ان كو ساتھيوں كے ہمراہ وزنی پتھروں سے باندھ كر بحيرہ روم میں پھينك ديا گيا۔پھر قذافی نے اس واقعہ كے تمام گواہوں كو بھی قتل كراديا۔ فقط میں اس واقعہ كا واحد گواہ ہوں ۔
يادرہے كہ مصری انقلاب كے بعد امام موسی صدر كے زندہ يا مردہ ہونے كے بارے میں مختلف اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
975561
نظرات بینندگان
captcha