بين الاقوامی گروپ: سيد حسن نصر اللہ نے خطے میں ديگر ممالك كی نسبت لبنان كی كمزور ساكھ كو اس طرح مضبوط كیا ہے کہ جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر شيعوں كے مقام و مرتبے میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملی ہے جبكہ ملكی اور علاقائی سطح مقاومت كی كاميابيوں كے ساتھ لبنان كے مستقبل سے متعلق ان كی حكمت عملی شيعوں كے باہمی اتحاد كا اہم دور شمار ہوتی ہے ۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق لبنان اور اردن میں اسلامی جمہوریہ ايران كے سابق سفير اور مشرق وسطی كے تجزیہ كار "محمد ايرانی" نے "سيد حسن نصراللہ ؛ لبنان سے بڑھ كر ، حزب اللہ كے رہنما اور مزاحمت كے كمانڈر" كے عنوان سے ايكنا كے لیے لكھے گئے اپنے خصوصی مقالے میں سيد حسن نصر اللہ كی شخصيت كا مختلف زاويوں سے جائزہ ليا ہے اور اس مقالے كے مقدمے میں تحرير كيا ہے كہ بلا شك و ترديد طول تاريخ كے دوران سياسی سوچ اور سرگرميوں كو باہم مخلوط كرنے والے افراد نے تاريخ پر زبردست اثرات مرتب كیے ہیں ۔ امام خمينی ﴿رح﴾ ، مھاتما گاندھی ، نلسن منڈيلا، امير كبير اور قائم مقام فرہانی وہ عظيم نام ہیں جنہوں نے اپنے دور میں ايك نئے مكتب كو پيش كيا تھا اور اس كو عملی جامہ پہنانے كے لیے جدوجہد كرتے رہے ۔
اسی طرح انہوں نے ذكر كياہے كہ اس مختصر سی تحرير میں كوشش كی جائے گی كہ اس مہم ترين شخصيت يعنی سيد حسن نصر اللہ كی قيادت اور لبنان كے مستقبل كے بارے میں حكمت عملی كا جائزہ لينے كے ساتھ ساتھ شيعوں كی ذمہ داريوں پر روشنی ڈالی جائے ۔
995018