قرآن كی بے حرمتی کا ہدف لبرل افکار كی نابودی سے عمومی اذہان كو منحرف كرنا ہے

IQNA

قرآن كی بے حرمتی کا ہدف لبرل افکار كی نابودی سے عمومی اذہان كو منحرف كرنا ہے

23:58 - May 02, 2012
خبر کا کوڈ: 2317316
بين الاقوامی گروپ : افغانستان میں امريكی فوجيوں کا قرآن كو نذر آتش کرنا اسی طرح گستاخ اسلام پادری كی جانب سے قرآن کی بے حرمتی جیسے ناكام منصوبوں كا اجرا درحقيقت دنيا میں لبرل افكار كی نابودی سے عمومی اذہان كو منحرف كرنے كا ايك وسيلہ ہے ۔
مسلمان فرانسوی محقق اور نامہ نگار "يان منصور توفيق ڈوگرانج" نے ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران خيال ظاہر كيا ہے كہ مغربی دنيا یہ جانتے ہوئے كہ سرمایہ دارانہ نظام اور لبرل افكار اس وقت روبہ زوال ہیں لہذا اسلامی مقدسات پر حملوں كے ذريعے عمومی افكار كو ان منحرف ممالك میں ہونے والی تبديليوں اور ان مکاتب فکر كی تیزی سے سرنگونی كو روکنے کی کوشش کر رہی ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ اسلامی مقدسات كی توہين جیسے واقعات اس وقت رونما ہو رہے ہیں جب مغربی دنيا کو اقتصادی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے يا پھر ان ممالك میں انتخابات قريب ہیں ، اسی طرح اسلامی ممالك میں حالیہ انقلابی تحريكوں نے بھی مغربی دنيا كے مسائل میں اضافہ كر ديا ہے لہذا عالمی سامراج اپنے توہين آميز اقدامات كے ذريعے یورپین شہريوں كے درميان مسلمانوں كو ذلیل اور غير مسلم افراد كو اسلام كی طرف مائل ہونے سے روكنا چاہتا ہے ۔
997537
نظرات بینندگان
captcha