مصر میں جاری صدارتی انتخابات كی اختتامی صورتحال اسلام پسندوں كی كاميابی اور ملك كی خارجہ پاليسيوں میں بنيادی تبديليوں كی حكايت كر رہی ہے ۔ مشرق وسطی سے مربوط امور كے ماہر "مرتضی ميری" نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران مصر میں جاری صدارتی انتخابات اور اسرائيلی سياست پر اسكے اثرات كا جائزہ لیا ہے ۔
ایکنا : صدارتی انتخابات سے پہلے مصر کی صورتحال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
مرتضی میری : مصر ان دنوں اپنی تاریخ کے جمہوری ترین انتخابات کا تجربہ کر رہا ہے ۔ عوام اور سیاسی قوتیں بے تابی کے ساتھ ان انتخابات کا انتظار کر رہی تھیں اور یہ سوال بھی عوامی حلقوں میں گردش کررہا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج آئندہ دس سالوں کے دوران مصر کی سرنوشت کو کیسے معین کریں گے ؟ اسی وجہ سے ان انتخابات کو دنیا بھر میں اس سال کا مہم ترین واقعہ کہا جا سکتا ہے درحقیقت یہ کہنا چاہیئے کہ دنیا کی نظریں مصر کے صدارتی انتخابات اور رونما ہونے والی تبدیلیوں پر لگی ہوئی ہیں ۔ ملک بھر میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے خاصہ جوش وخروش دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ عوامی سطح پر اس جوش و خروش نے صورتحال کو کنٹرول کرنے اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے سپریم فوجی کونسل کو سخت امتحان میں ڈال دیا ہے ۔
1011495