بين الاقوامی گروپ : جو كتاب بھی لكھی جائے ، اس كا متن جتنے ہی نئے مفاہيم پر مشتمل كيوں نا ہو ، آج اس كا كوئی نا كوئی حصہ منسوخ اور قارئين كے لیے كسی كام نہیں ہوگا ليكن قرآن كريم كے مطالب قيامت تك كبھی پرانے نہیں ہوں گے اور انسانيت كے لیے زمانہ حال كے مطابق اس كتاب كے مفاہيم اور احكام كی بدولت اس كو دوسری آسمانی كتابوں پر برتری حاصل ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق، جامعۃ المصطفی (ص) العالمیۃ كے نائب صدر حجت الاسلام المسلمين "مہدوی مہر" نے بيسویں بين الاقوامی قرآنی نمائش كے شعبہ قرآن اور قوموں كی ثقافت كی اختتامیہ تقريب كےدوران اپنے خطاب میں سورہ واقعہ كی آيت نمبر ۷۵ اور ۷۹ (فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ، وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ، اِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ، فِی كِتَابٍ مَّكْنُونٍ، لَّا یَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُون) كی طرف اشارہ كرتے ہوئے واضح كيا ہے كہ قرآن مسلمانوں كی آخری كتاب اور انسانيت كے لیے آخری ہدايت كے سامان كے عنوان سے اللہ كی طرف سے نازل كی گئی ہے ، اور باقی تمام كتابوں سے متفاوت ہے ۔
1077216