ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے فرانس كی نيوز ايجنسی "AFP" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ تحريك حماس كے سربراہ خالد مشعل نے جمعہ كے روز غزہ پٹی كا كامياب دورہ كيا اور 8 دسمبر كو حماس كی تاسيس كی 25 ویں سالگرہ كے موقع پر ہونے والی تقريب میں شركت كی اس شركت كے باعث بعض صہيونيوں كے درميان جھڑپ ہوئی ہے۔
آج 9 دسمبر كو بنيامين نتانياہو كی سربراہی میں اسرائيلی جماعت اور ديگر مختلف جماعتوں نے ايك دوسرے پر حماس كے ساتھ صلح كا الزام لگايا ہے، اور خالد مشعل كا غزہ كے دورہ كو ان كی تنظيم كو باعث تقويت قرار ديا ہے۔
اسرائيل كے وزير تعليم گيدون سعار جو ليكوڈ جماعت سے وابستہ ہے، نے كہا: ہر وہ جماعت جس نے اسرائيل كو غزہ كے مغربی كنارے سے ہٹانے كا مطالبہ كيا اس طرح ہے جيسا كہ اس نے حماس كے ساتھ تعاون كيا ہے۔
بنيامين نيتانياہو كے سابق مشير نے خالد مشعل كے كامياب دورہ پر تنقيد كا اظہار كيا اور كہا: اسرائيلی فورسز نے خالد مشعل كو قتل كيوں نہیں كيا؟
حتی كہ بعض اسرائيلی گروپ كے ركن نے كہا ہمیں مشعل كو قتل كردينا چاہئے تھا؟!
1150402