"قرآن كی جانب دريچہ" كتاب كے مؤلف "احمد مخملی" نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ سے گفتگو كے دوران "باب قرآن " كتاب كی نگارش كے اہدف كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہےكہ اسلامی انقلاب سے پہلے بہت سے حقيقت كے متلاشی ايرانی جوان جو اس بات كو جاننا چاہتے تھے كہ قرآن نے كن مطالب اور موضوعات پر گفتتگو كی ہے ؟ ان كے پاس صرف ايسے قرآن موجود تھے جو پاورقيوں كی صورت میں خستہ حال معنی اور ناقابل فہم ترجمے پر مشتمل تھے ۔
انہوں نے مزير كہا : جب كام اور تعليم كی غرض سے میں ملك سے باہر تھا تو ثقافتی اور سياسی تنظيموں جيسا كہ فلپائن میں مسلمان طلباء كی انجمن اور اسی طرح ايك لمبا عرصہ اسلامی سينٹر ٹوكيو (جاپان) میں شركت كے دوران مجھے مسلمانوں اور غير مسلمانوں كی جانب سے انہیں سولات اور غير يقينی صورتحال كا سامنا رہا تھا جو ہميشہ یہ سوال كرتے تھے كہ " تمہارے قرآن نے كن موضوعات پر بحث و تمحيص كی ہے اور تمہارے دين كی ضروری اور غير ضروری چيزیں كون سی ہیں؟
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ یہ كتاب " قرآن كی جانب دريچہ" آيات كی تحقيق اور يكجا كرنے كے بعد پانچ فصلوں میں تقسيم اور تدوين كی گئی ۔
940574