34 ملکی سعودی اتحاد بے نقاب ہوگیا، حقیقت میں یہ اتحاد اسرائیل کیخلاف لڑنے والوں کیخلاف بنا ہے، ناصر عباس شیرازی

IQNA

34 ملکی سعودی اتحاد بے نقاب ہوگیا، حقیقت میں یہ اتحاد اسرائیل کیخلاف لڑنے والوں کیخلاف بنا ہے، ناصر عباس شیرازی

18:23 - February 08, 2016
خبر کا کوڈ: 3500261
بین الاقوامی گروپ:ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری سیاسیات کا کہنا تھا کہ مزاحمت بلاک کو ایران اور استعماری بلاک کو امریکہ لیڈ کر رہا ہے۔ استعماری بلاک میں اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت صف اول میں ہے۔ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے، یہ وہ پریشر ہے کہ جو اسرائیل کے مقابلہ میں تھا،
ایکنا نیوز- اسلام ٹایمزسے گفتگو میں مجلس وحدت کے سیکریٹری سیاسیات عباس شیرازی نے کہا کہ بدقسمتی سے میڈیا مغربی کے پاس ہے اور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بنیادی مسئلہ ایران اور سعودیہ کے درمیان ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی طور پر یہ مزاحمت بلاک کا عالمی استعمار کے ساتھ مقابلہ ہے۔ آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مزاحمت بلاک کو ایران اور استعماری بلاک کو امریکہ لیڈ کر رہا ہے۔ اس استعماری بلاک میں اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت صف اول میں ہے۔ یہ نظریاتی جنگ ہے، یہ وہ پریشر ہے کہ جو اسرائیل کے مقابلہ میں تھا، ایک وقت تھا کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایک دنیا حزب اللہ کے ساتھ کھڑی تھی، اب وہ ایران کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے، مطلب یہ ہوا ہے کہ اس جنگ کا رخ موڑنے کیلئے سعودی عرب کو استعمال کیا گیا ہے، تاکہ اس مسئلہ کو اسرائیل مقابلہ کے بجائے شیعہ سنی مسئلہ بنا دیا جائے۔ اس معاملے میں سعودی عرب نے زمینہ سازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عرب اور عجم معاملہ ہے، اب دیکھیں کہ عراق، شام، یمن اور لبنان عرب ہیں۔ یہ عربوں کا عرب کے ساتھ مسئلہ تو ہوسکتا ہے لیکن عجم اس میں کہیں بھی براہ راست جنگ میں نہیں ہیں۔ تو پھر یہ عرب عجم مسئلہ نہیں ہوسکتا۔ داعش کے مخالفین میں عجم ہیں، اور حمایت میں عرب ہیں۔ یہ بالکل ایک مختلف چیز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اتحاد میں ان ممالک کو شامل نہیں کیا گیا جو دہشتگردی کا شکار ہیں، اس میں پسند ناپسند شامل کی گئی ہے، یعنی جو آپ کے ساتھ چلتے ہیں، وہ اس اتحاد کا حصہ ہیں، جو ساتھ نہیں ہیں، وہ اس اتحاد کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ اس اتحاد کی کوئی منزل واضح نہیں اور نہ ہی اس کا ٹارگٹ واضح ہے، یہ فقط نفسیاتی حربہ ہے، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اہم بات یہ کہ ابھی تک دہشتگردی کی تعریف ہی نہیں ہے، اگر داعش شام میں بشار الاسد کے خلاف اقدام کرے تو جہادی اور اگر سعودی عرب کے خلاف اقدام کرے تو دہشتگرد کہلاتے ہیں، یہ دہرا معیار ہے، جس دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے، اس کی کوئی تعریف ہی نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی بات ہے کہ جن طالبان کو سعودی عرب نے پالا تھا، اب وہ دہشتگرد بن گئے ہیں، ماضی میں یہ جہادی تھے۔ کس کو یاد نہیں کہ سعودی حکومت نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ یہ خود ایک سوال ہے کہ دہشتگرد کون ہے؟ جو دنیا کا بدترین دہشتگرد ہے، لیکن آپ کے حق میں بات کرے یا آپ کیلئے کام کرے وہ دہشتگرد نہیں ہے، جو نہ کرے وہ دہشتگرد ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس اتحاد کو سنی اتحاد کا نام دیا گیا ہے اور امریکہ نے اس کی تعریف کی ہے اور ویلکم کیا ہے۔ یہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے اور یہ افورڈ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اتحاد جسے سنی اتحاد کا نام دیا گیا ہے اور حقیقت میں ایک خاص فکر پر مبنی اتحاد ہے جو پاکستان میں آگ لگائے گا۔ اس اتحاد میں کسی صورت شامل نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک سوال ہے کہ جو مسلمہ دہشتگرد ہیں، جیسے اسرائیل ہے، کیا یہ اتحاد اس کے خلاف جہاد کیلئے آمادہ ہے۔؟ اگر یہ آمادہ ہے تو تمام اسلامی ممالک اس میں شامل ہوں گے۔ پھر یہ 34 کے بجائے 56 اسلامی ممالک پر مبنی اتحاد ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف لڑنے والوں کیخلاف اتحاد بنا ہے۔ اس اتحاد کے بننے سے سعودی بےنقاب ہوئے ہیں۔
نظرات بینندگان
captcha