ایران کے دو ٹوک موقف نے امت مسلمہ کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھا، معصوم نقوی

IQNA

ایران کے دو ٹوک موقف نے امت مسلمہ کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھا، معصوم نقوی

12:53 - February 14, 2016
خبر کا کوڈ: 3500299
بین الاقوامی گروپ: لاہور میں کارکنوں سے گفتگو میں جے یو پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران نے اتحاد امت کو ہمیشہ فروغ دیا اور کبھی کسی فرقے کی دل آزاری نہیں کی، جے یو پی کے وفد کے حالیہ دورہ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے ایسے تعلیمی ادارے اور مدارس بھی تشکیل دے دیئے ہیں، جہاں تمام مکاتب فکر کے طلباء کو ان کی فقہ کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔
ایکنا نیوز- اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان نیازی کے سربراہ پیر سید معصوم نقوی نے ایرانی انقلاب کی 38 ویں سالگرہ پر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مملکت علامہ حسن روحانی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے دو ٹوک موقف نے امت مسلمہ کا ہمیشہ سر فخر سے بلند رکھا اور اس نے عالمی سطح پر ہونیوالے حادثات میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ لاہور میں جمعیت سیکرٹریٹ میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیر معصوم نقوی نے کہا کہ ایران نے اتحاد امت کو ہمیشہ فروغ دیا اور کبھی کسی فرقے کی دل آزاری نہیں کی، جے یو پی کے وفد کے حالیہ دورہ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے ایسے تعلیمی ادارے اور مدارس بھی تشکیل دے دیئے ہیں، جہاں تمام مکاتب فکر کے طلباء کو ان کی فقہ کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے اور گارنٹی دی جاتی ہے کہ وہ جس فقہ سے تعلق رکھتے ہوں گے، تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ویسے ہی اپنے وطن کو واپس لوٹیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایسا اقدام ہے جسے اہل سنت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں علماء کی قیادت میں انقلاب برپا کیا گیا، اس کے بعد سے ایران سے امریکی پنجے اکھڑ چکے ہیں، اب اہل سنت پر انقلاب اسلامی لانا قرض اور فرض ہے، اس لئے کہ اہل سنت کی بڑی تعداد پاکستان میں بستی ہے، یہاں کی سنی جماعتوں کو ایک قیادت پر اتفاق کرکے اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کرنی چاہیے، مگر افسوسناک بات ہے کہ سنی جماعتیں ہی سب سے زیادہ تقسیم ہیں، علماء اور مزارات اولیاء کے سجادہ نشینوں کو اتحاد اہلسنت سے سنی انقلاب لانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہمارے پاس ایران کی مثال موجود ہے، جہاں موروثیت نہیں بلکہ تقویٰ  اور سیاسی صلاحیت کی بنیاد پر قیادت منتخب ہوتی ہے، ولایت فقیہ کی شکل میں نظام اسلام قائم کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر جے یو پی کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ اداروں کو بھی ایرانی طرز حکومت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس کیلئے مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔
نظرات بینندگان
captcha