ایکنا نیوز- نیوز ویب سایٹ «Daily Beast»،کے مطابق «The Study Quran» کے نام سے جسکو اگر " قرآن کی شاخت" کہا جایے تو بہتر ہوگا 2000 صفحات پر مشتمل مفصل کتاب ہے جسمیں قرآنی ترجمے کے علاوہ تفسیر بھی موجود ہے۔
سلفیوں کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے قرآنی کتابوں اور ترجموں کے حوالے سے بازار پر انکا تسلط تھا اور دنیا کے مختلف ممالک جیسے امریکہ سے لیکر یورپ اور پاکستان وغیرہ میں انہوں نے وسیع سرمائے سے اپنے عقائد کے مطابق کتابیں چاپ کر تقسیم کیے اور ہر مخالف کی نظر کو رد کرتےرہیں۔
سال 2014 میں مذاہب کے شعبے میں استاد کارن آرمسٹرانگ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ہرجگہ سعودی طرز پر مساجد موجود ہیں اور ان میں سلفی مبلغین شب و روز اپنے عقاید کی پرچار کررہے ہیں
آرمسٹرانگ لکھتا ہے کہ مصر اور پاکستان جیسے ممالک کے مرد جو مزدوری کے لیے خلیج فارس کے ممالک میں آتے ہیں وہاں انکا سامنا ان مبلغین سے ہوتے ہیں اور پھر انکے(زہریلے) افکار یہ اپنے گھروں تک لے جاتے ہیں
یورپ اور امریکہ میں بھی یہ سلفی مبلغین جوانوں کو دہشت گردوں سے ملانے کے لیے تبلیغات کرتے ہیں اور داعش میں انکی شمولیت اسکی مثال ہے اگرچہ تمام سلفی تکفیری نہیں مگر ان میں ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی آیات کو تحریف کرکے من پسند ترجمہ پیش کرتے ہیں اور شیعوں سمیت دیگر مکاتیب کے افراد کے قتل کی تشریح کرتے ہیں
لہذا اسی وجہ سے اس انگریزی والے جدید ترجمے کو یہ وہابی برداشت نہیں کرپارہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے پروپیگنڈوں میں مصروف ہو گئے ہیں
نومبر میں اشاعت شدہ یہ کتاب اب مختلف لا یبریریوں میں موجود ہے اور تیزی سے فروخت ہورہی ہے۔
ڈاکٹر نصر کے مطابق سلفی اسلام کے اصل مکتب میں شامل نہیں اور انکے افکار کو قرآن رد کرتا ہے اور اس کتاب میں اعتدال پر مبنی درست ترجمے اور وضاحتوں کے ساتھ منطقی انداز میں پیغام قرآن کو پیش کیا گیا ہے
اس کتاب میں فکر کرنے اور قرآن کو درست سمجھنے کی تاکید کی گئی ہے اور شاید اسی وجہ سے برطانوی سلفی ابو عیسی نعمت اللہ سوشل میڈیا میں کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ لوگوں اس کتاب سے طاعون کی طرح دور رہو ۔