بین الاقوامی گروپ: آئندہ دس برسوں میں حج کے دوران سخت گرمی ہوگی۔دس برسوں کے دوران جن مہینوں میں حج آئے گا اس دوران سعودی عرب میں شدید گرمی پڑتی ہے۔
ایکنا نیوز- جیو نیوز- خلیجی اخبار’العربیہ اور سعودی گزٹ‘ کے مطابق آیندہ دس برس کے دوران حج کا سیزن سخت گرم موسم میں آئے گا اور موسم کی شدت کے پیش نظر بہت سے عازمین حج کو لُو لگ سکتی ہے یا وہ گرمی سے لاحق ہونے والی دوسری بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔
یہ بات خادم الحرمین الشریفین کے ادارہ برائے حج اور عمرہ ریسرچ نے ایک تحقیقی مطالعے میں بتائی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ آیندہ دس سال کے دوران ستمبر ،اگست ،جولائی اور جون کے مہینوں میں حج آئے گا اور ان مہینوں میں سعودی عرب میں سخت گرم موسم ہوتا ہے۔
اس مطالعے کے مطابق آیندہ ایک عشرے کے دوران مکہ مکرمہ اور اس کے نواحی علاقوں میں موسم گرم ترین رہے گا۔اس لیے عازمین حج اور عمرہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ محفوظ رہنے کے لیے ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کر کے آئیں۔
عازمین حج اور عمرہ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سورج کی شعاعوں کے براہ راست جسم پر پڑنے سے بچاؤ کے لیے چھتریاں استعمال کریں،اپنے سروں کو ڈھانپ کررکھیں اور بہت زیادہ پانی اور مشروبات استعمال کریں۔ہلکے کپڑے پہنیں اور غسل کرتے ہوئے اپنے ائیر کنڈیشنر کھلے رکھیں۔
اس میں لُو لگنے کی یہ علامات بتائی گئی ہیں کہ اس سے جسمانی درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے،سردرد ہوسکتا ہے،متاثرہ شخص نقاہت کا شکار ہوسکتا ہے،وہ بے ہوش ہوسکتا ہے اور پسینے چھوٹنے سے اس کی دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال حج کے دوران گرمی اور بدنظمی کی وجہ سے ہزاروں حجاج جان کی بازی ہارگیے تھے