قومی غیرت و حمّیت کا تقاضا ہے کہ ملت کے قتل عام پر باہر نکلا جائے، علامہ سید حسن ظفر نقوی

IQNA

قومی غیرت و حمّیت کا تقاضا ہے کہ ملت کے قتل عام پر باہر نکلا جائے، علامہ سید حسن ظفر نقوی

14:32 - May 17, 2016
خبر کا کوڈ: 3500816
بین الاقوامی گروپ: ہم اپنے بچوں کو بزدلی کا درس دیکر اس دنیا سے نہیں جانا چاہتے، لہٰذا ہماری للکار بھی محفوظ رہے گی۔ ہم اپنے بچوں کو شجاعت کا درس دیکر جانا چاہتے ہیں
ایکنا نیوز- اسلام ٹایمز سے گفتگو میں علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا :ہم اپنے مومنین کیلئے یہاں بیٹھے ہیں، ہم ان بیواوں کیلئے، ان یتیم بچوں کیلئے یہاں بیٹھے ہیں، جن کے والدین کو بےگناہ قتل کر دیا گیا، یہ یتیم بچے اور بیوائیں ہم سب سے پوچھ رہی ہیں کہ کراچی سے لیکر پاراچنار اور گلگت بلتستان تک ان کیلئے آواز اٹھانے والا کون ہے۔؟ ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور میں پروفیشنلز کو قتل کر دیا جاتا ہے، پاراچنار میں ایف سی جشن امام حسین علیہ السلام منانے والوں کو قتل کرکے کہتی ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کو مار دیا ہے، بعد میں لوگوں کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم قبول کرو کہ پہلے ہم نے ایف سی پر فائرنگ کی تھی۔ لہٰذا ان مظلوموں کی خاطر اٹھنے والوں سے وضاحت مانگی جا رہی ہے، وضاحت ان سے مانگو جو ان واقعات پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ وضاحت ان سے مانگی جائے کہ اگر یہ نہ کیا جائے تو کیا جائے۔؟ وضاحت ہمیں نہیں انہیں دینا ہوگی جو گھروں میں بیٹھ کر وضاحتیں مانگ رہے ہیں۔
 انہوں نے صرف میڈیا تک محدود احتجاج کے حوالے سے کہا :میرے بھائی تحریکیں مسیجز پر نہیں چلتیں، تحریکیں سوشل میڈیا پر نہیں چلتیں، تحریکیں خون مانگتی ہیں اور تحریکیں عوام کو میدان عمل میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہاں پر کتنے لوگ بیٹھیں، دو چار آٹھ دس بارہ، بس اسی پر مذاق اڑایا جائیگا،؟ اکیلا علامہ ناصر عباس کیمپ لگا کر بیٹھا تھا ناں، 70 بھی ہوجائیں گے اور 72 بھی ہوجائیں۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی بھی نہ آئے، ہم اپنی تکلیف شرعی ادا کرنے کے پابند ہیں نتیجے کے نہیں، ہم اپنا وظیفہ ادا کر رہے ہیں، ہم یتیموں، بیواوں اور بچوں کی فریادوں کا جواب دے رہے ہیں، ہم اُن بوڑھوں کے سامنے سرخرو ہیں جن کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا گیا۔
 دیکھیں، ہمیں مارا جا رہا ہے، ہر سطح پر مارا جا رہا ہے، ریاست کی سرپرستی میں مارا جا رہا ہے، پہلے یہ اعتراض تھا کہ کچھ نہیں کرتے، اب کیا جاتا ہے تو اعتراض کیسا؟، میں مومنین سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ جہاں بھی ہوں، جس ملک میں ہوں، ہماری آواز آپ تک پہنچ رہی ہے اور ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم یہاں سے جانے والے نہیں ہیں۔ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوں گے، یہاں سے جانے والے نہیں ہیں، بھلے کوئی بھی ساتھ نہ دے۔ ناصر ملت نے آواز دے کر قوم کو نہیں بلایا بلکہ عمل کر میدان میں خود قدم رکھا ہے، ہم اپنی مرضی سے آئے ہیں، انہوں نے ہمیں نہیں بلایا کہ آپ آو اور میرا ساتھ دو۔ اب یہ مولوی کو سوچنا ہے جو یہ کہتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ (علامہ ناصر عباس) اپنا وظیفہ ادا کر رہا ہے، اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ، آپ بتائیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔ آپ کو سوچنا چاہیئے کہ آپ کا شرعی وظیفہ کیا ہے، آپ نے اپنے شہروں میں کیا کرنا ہے، اس پر سوچیئے۔؟
نظرات بینندگان
captcha