ایکنا نیوز- یاد رہے کہ پاکستانی سرحد سے محض 50 کلومیٹر دور پٹھان کوٹ میں ہندوستانی ایئر فورس کے ایئربیس پر رواں برس 2 جنوری کو دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا جس کے خلاف چار روز تک آپریشن جاری رہا۔دہشت گردوں کے حملے میں ہندوستانی فوج کے 7 اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ آپریشن میں 6 حملہ آور بھی مارے گئے۔
ڈان نیوز کے مطابق ہندوستان نے مسعود اظہر کو پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف اور پٹھان کوٹ حملے کے سہولت کاروں کاشف جان اور شاہد لطیف کے خلاف نوٹس کے اجراء کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ انٹرپول کسی ملزم کے خلاف اُس وقت آر سی این جاری کرتی ہے جب اُس ملک کی جانب سے ملزم کے خلاف تمام ثبوت اور معلومات فراہم کیے جائیں، جہاں جرم ہوا ہوا۔
تاہم واضح رہے کہ آر سی این کوئی انٹرنیشنل وارنٹ گرفتاری نہیں ہے اور انٹرپول مسعود اظہر کی گرفتاری کے لیے پاکستان کو مجبور نہیں کرسکتا۔
ہندوستان اس سے قبل بھی مسعود اظہر کے خلاف مذکورہ وارنٹ حاصل کرچکا ہے، تاہم وہ پاکستان کو جیش محمد سربراہ کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور نہیں کرسکا۔
اس سے قبل رواں سال کے آغاز میں پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی تفتیشی ٹیم نے ہندوستانی حکام کو بتایا تھا کہ ابھی تک مسعود اظہر کے اس حملے میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں تاہم ہندوستان کا موقف تھا کہ جیش محمد ہی اس حملے کی ذمہ دار ہے۔