
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «مرآة البحرین» کے مطابق یمنی مظلوم عوام کی حمایت میں دو روزہ کانفرنس لندن میں سوشل ایکٹویسٹ اور عربی سیاسی شخصیات کی شرکت کےساتھ منعقد کی گیی ہے
یہ کانفرنس یمن کے عوام کے سعودی- عربی الاینس کی مسلط کردہ جنگ کے خلاف تنظیم
«جنگ بند کیجیے» اور انسانی حقوق کی تنظیم «سبأ» کے تعاون سے لندن کی ہوٹل «پولمن» میں منعقد کی گئی ہے
فلم کا آغاز جنگ سے تباہ حال یمنی عوام پر بنائی گیی ڈکومنٹری کی نمائش سے ہوا ۔
اسکاٹ لینڈ کے پارلیمنٹ کے رکن «فرانسی مالوی» نے متحارب گروپوں مذاکرات اور جنگ بندی پر تاکید کرتے ہوئے صلح کو علاقے کے لیےلازمی قرار دیا
«پریس ٹی وی» کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد یمن پر مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرانا ہے
کانفرنس میں مختلف ممالک جیسے ہالینڈ، جرمنی، اسپین ، کینیڈا، ایران اور اٹلی سے اہم سیاسی اور علمی شخصیات شرکت کررہی ہیں
شرکاء نے طولانی جنگ کے سلسلے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر امن مذاکرات شروع کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا
کانفرنس میں بچوں کے قتل عام پر انسانی حقوق کی جانب سے کمیشن کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا۔
آیتالله اراکی: اسلامی معاشرہ امن کا راستہ اختیار کرے
عالمی تقریب مذاہب کے سیکریٹری جنرل آیتالله شیخ محسن اراکی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسلامی معاشرے میں امن و محبت کو عام کرنا چاہیے مگر سعودی عرب جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہے
آیتالله اراکی نے کہا کہ اسلام(ص) کے ماننے والوں کو دنیا میں رحمت کا علمبردار بننا چاہیے مگر سعودی عرب اختلاف کا پرچم اٹھا کردنیا بھر میں جنگ کی آگ کو شعلہ ور کرنے میں پیسہ لگا رہا ہے
انہوں نے سعودی عرب کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ کی بجائے امن کا راستہ اختیار کرے
آیتالله اراکی نے کہا انسانیت کے لیے امن کی جگہ ہے اور یہاں کے حکام کو امن کو یقینی بنانا چاہیے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔