شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 139 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

IQNA

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 139 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

7:05 - November 09, 2016
خبر کا کوڈ: 3501873
بین الاقوامی گروپ: عظیم مصلح نامور شاعر ہونے کےساتھ مفسر، عاشق قرآن مجید اور سچےعاشق رسول (ص) بھی تھے / امت اقبال کے قرآنی افکار سے درست انداز میں استفادہ نہ کرسکی

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 139 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے


ایکنا نیوز- اقبال جوعین عنفوان شباب میں مغرب سے اعلیٰ تعلیم پانے کے باوجو اپنی پوری زندگی اسلام کے شیدائی رہے اور اپنی شاعری میں جابجا قرآن پاک کے حوالہ جات دے کر نہ صر ف امت مسلمہ کو اس کی عظمت رفتہ کااحساس دلانے کی کوشش کی بلکہ اسلامیان ہند کو روشنی کی ایک ایسی کرن دکھائی کہ وہ انگریز کا طوق غلامی اتار پھینکنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اقبال اسلام کے سچے پرستار اورحب رسول سے سرشار تھے چنانچہ انکے کلام ہمیں قرآن و حدیث سے پوری طرح معمور نظر آتا ہے۔فلسفے کی گہرائیوں پر عبور حاصل کرنے کے باوجود اقبال مذہب سے انتہائی متاثر تھے۔ 

قرآن عظیم سے ان کو خصوصی شغف تھا۔ وہ بچپن سے بلند آواز سے تلاوت قرآن کے عادی تھے اور تلاوت کے دوران آیات کے موضوعات کی مناسبت سے ان پر رقت و خوشی طاری ہوجاتی تھی۔وہ عمل کی بنیاد ایمان اور نیت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے تھے، ظواہر انکے نزدیک معتبر نہ تھے۔ انکی نظر افعال کی بجائے انسان کے ایقان و اعتقاد پر ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیک وقت حکیم الامت اور شاعر مشرق کہلائے۔


اقبال کو قرآن پاک سے عشق تھا چنانچہ ان کا تقریباً ہر شعرقرآن پاک کی کسی نہ کسی آیت سے منسوب ہے ؎
اسے صبح ازل انکار کی جرات ہوئی کیوں کر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
اس شعر میں اقبال نے مندرجہ ذیل آیات کی طرف اشارہ کیا ہے:
ـ’’ اور جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں لیس دار گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں، چنانچہ جب میں اسے بنا لوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سرنگوں ہوجائو۔ سو سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے اس سے انکارکیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو‘‘…؎
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق
آواز کن ہوئی تپش آموز جان عشق
مندرجہ بالا شعر میں اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے: ’’وہ (اللہ تعالیٰ) جب کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے توہ اس کو کہہ دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہو جاتی ہے‘‘
قرآن پاک کی ایک اور آیت ’’ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی چنانچہ ان سب نے اس سے انکار کیا کہ اسے اٹھائیں اور وہ اس سے خوفزدہ ہوئے اور انسان نے اسے اپنے ذمے لے لیا، بیشک وہ بڑا ظالم ہے بڑا جاہل ہے‘‘ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ؎
میرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھا، وہ اٹھایا تو نے
اسی آیت سے اقبال کا مندرجہ ذیل شعر بھی منسوب ہے؎
سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں
ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں، جاہل ہوں میں


علامہ اقبالؒ نہ صرف بلند پایہ مفکر اور عظیم المرتبت شاعر تھے بلکہ وہ بہت بڑے عاشق رسول بھی تھے۔ ان کی منظومات،خطوط اور دیگر نثر پارے اس امر کے شاہد ہیں کہ انہیں حبیب خدا اور محبوب کبریا حضرت محمد مصطفےٰ کی ذات و صفات مجموعہ کمالات سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ ہادی کامل کا نام مبارک سنتے ہی آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ان کے جذبہ عشق رسول کا بنیاد محض اعتقادی نہیں تھا بلکہ یہ فکری بھی تھی۔انہوں نے رسولِ کریم کے سواحِ حیات کا بغور مطالعہ کیا تھا جس کی بنا پر انکے موروثی عشقِ رسول میں بہت زیادہ پختگی اور وارفتگی کی مثال پیدا ہوگئی تھی.

عام نسبت گو شاعر زیادہ تر جذبہ محبت کی شدت اور ذاتی حالات پر زور دیتے ہیں بہت کم شعراءجذبات کی شدت کے ساتھ ساتھ بلندی افکار اور جدتِ خیالات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ علّامہ اقبالؒ بہترین شاعر ہونے کے علاوہ بلند مرتبہ فلسفی اور مفکر بھی تھے اسلئے انہوں نے بڑی خوبصورت سے گہرے جذبات کو اعلیٰ افکار کے ساتھ اس طرح ملا دیا ہے کہ انکی شاعری کو نئی آب و تاب میسر آگئی ہے۔ جذبات نگاری اور فلسفہ طرازی کا یہ دلچسپ اور وجدآور امتزاج درج ذیل اشعار میں یوں پیش کیا گیا ہے۔ وہ رحمتِ عالم اور سرکارِ دو جہاں کی بارگاہ میں اس طرح نعت سرا ہوتے ہیں....

وہ دانائے سُبل،ختم الرسل،مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا!
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طاہا

اقبال آل رسول اور بالخصوص امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام سے بھی بیحد متاثر تھے لہذا وہ فرماتے ہیں :

غریب وسادہ ورنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسینؑ ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
یا
صدق خلیل بھی ہے عشق، صبرحسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں، بدروحنین بھی ہے عشق
علامہ اقبال کربلا اور امام حسینؑ کوقربانی اسماعیلؑ کاتسلسل جانتے ہیں بلکہ ’’ذبح عظیم‘‘ کامصداق قرار دیتے ہیں جس کااظہار انھوں نے اپنے فارسی کلام میں بھی کیا ہے۔
اللہ اللہ بائے بسمہ اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر
یعنی کہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کوجس عظیم قربانی سے بدل دیا گیا تھا وہ امام حسینؑ کی قربانی ہے اوریہ نکتہ کوئی آگاہ شخص ہی بیان کرسکتا ہے اوریہ قربانی مفہوم کی دلربا تفسیر بھی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ قربانی حسینؑ کا اسلام میں کیامقام ہے اورمنشاء ایزدی میں قربانی حسینؑ کب سے جلوہ گرتھی۔
اقبال کی شاعری میں یہ اشعار بھی ملتے ہیں۔
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی وشامی
وہ امت مسلمہ میں حسینی سیرت کے حامل رہنما کی کمی کو سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے یوں شکوہ کرتا ہے
قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تابدار، ابھی گیسوئے دجلہ وفرات

علامہ اقبال برصغیر کے مسلمانوں خصوصاً علماء کرام اورحجروں میں بند بزرگان دین کودعوت فکر دیتے ہیں۔
نکل کرخانقاہوں سے اداکررسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری
(ارمغان حجاز)

نظرات بینندگان
captcha