ہم نے سیرت پر عمل کی بجایے دین کو خوف کی علامت بناکر پیش کیا - نواز شریف کا سیرت کانفرنس سے خطاب

IQNA

ہم نے سیرت پر عمل کی بجایے دین کو خوف کی علامت بناکر پیش کیا - نواز شریف کا سیرت کانفرنس سے خطاب

14:38 - December 12, 2016
خبر کا کوڈ: 3502091
بین الاقوامی گروپ: آپﷺ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ریاست کو آئین سے روشناس کرایا اور عالمی تعلقات کیلئے انسانی حقوق کا چارٹر پیش کیا

ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق میلاد کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم نے سیرت کو نجات کا راستہ قرار دیتے ہویے کہا کہ یہی اسوہ حسنہ وہ پیمانہ ہے جس کی بنیاد پر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا ہے۔ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہے اور عوام کو اپنے فرائض پر نظر رکھنی ہے۔ قومی رہنماﺅں کو سوچنا ہے کہ وہ معاشرے کو کیا دے رہے ہیں اور علماءکو سوچنا ہے کہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں ایک جدید معاشرے کیسے بن سکتا ہے ۔ کیا ہم نے دوسرے مذاہب اور اقوام کے ساتھ اس چارٹر کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے آخری حج کے موقع پر عطاءفرمائے۔
قائداعظم اور علامہ اقبال نے پاکستان کو جدید اسلامی ریاست بنانے کا خواب دیکھا اور سیرت پاک سے جڑے رہنے کا درس دیا۔ علامہ اقبال نے ہمیں بتایا کہ وحی کی اصل اوریجن قدیم ہے لیکن اس کی روح جدید ہے، انہوں نے سیرت رسولﷺ سے روشنی لیتے ہوئے ایک آئینی ریاست کا تصور پیش کیا جس میں حق پارلیمینٹ کو دیا گیا اور آج ضرورت ہے کہ ہمارے علماءاور سکالرز ریاست اور معاشرے کی رہنمائی کریں کہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں کیسے ایک جدید مسلم ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔ ہم کیسے ان اخلاقی روایات کو زندہ کر سکتے ہیں جو آپﷺ کی عطاءہے ۔کیسے، سیاسی، سماجی اور معاشی اداروں کی تشکیل نو کر سکتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم دین سے کچھ سیکھنے اور رہنمائی لینے کے بجائے اسے عصبیت بنا دی اور پوری انسانیت کیلئے رہنمائی والے دین کو خوف بنا دیا۔ رحمت العالمین، جن کی رحمت تمام عالموں کیلئے ہے، اس رحمت کو محدود کر دیا ۔ گزشتہ سالوں میں اختلاف رائے کی بنیاد پر گلے کاٹے گئے مگر اللہ کا شکر ہے کہ ہماری 3 سال کی مسلسل کوشش سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بندہو گیا ہے۔ حکومت، قومی قیادت، علماءمشائخ عزائم، افواج پاکستان، پولیس اور دوسرے ریاستی اداروں کے تدبر اور قربانیوں سے دہشت گردی کے مراکز تقریباً ختم کر دئیے گئے ہیں تاہم اس بات کی ضرورت باقی ہے کہ اس انتہاءپسندی کا دروازہ بھی بند کر دیا جائے جس کی بنیاد دہشت گردوں نے رکھی ہے اور علماءکرام اس میں مدد کریں۔ ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اپنی شناخت کو قائم رکھنا ہے تو ہمیں اس اسوہ حسنہ سے رہنمائی لینا ہو گی جس نے ہمیں قرآن مجید کے ساتھ میثاق مدینہ اور خطبہ حجة الوداع جیسی دستاویزات عنایت فرمائیں۔

نظرات بینندگان
captcha