
ایکنا نیوز- ادارہ ثقافت وتعلقات اسلامی کے مطابق تیونس ٹیلی ویژن کے ڈایریکٹر نے ایرانی ثقافتی ایمبیسیڈر محمد اسدی موحد سے ملاقات کی ۔
ایرانی ثقافتی ایمبیسیڈر نے ملاقات میں صھیونی میڈیا کی سازشوں کے حوالے سے کہا کہ اس وقت مذکورہ میڈیا مسلمانوں میں اختلافات ڈالنے کی سازش میں مصروف ہے اور حلب کی آزادی میں ان جیسے میڈیا کے کردار سے یہ بات واضح ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کے دانشوروں میں وحدت اور باہمی تبادلہ افکار اس وقت ضروری ہے تاکہ ان سازشوں سے مقابلہ ممکن بنایا جاسکے۔
اسدیموحد نے کہا کہ رهبر معظم انقلاب اسلامی اور دیگر مراجع تقلید کے فتوے موجود ہیں جسمیں انہوں نے زوجاتالنبی(ص) اور اصحاب پیغمبر(ص) سمیت تمام بزرگان اہل سنت کے احترام کو واجب قرار دیا ہے
انہوں نے کہا کہ بعض نادان شیعوں کے کام کو تمام شیعوں کا کام قرار نہ دیا جائے اور یہ لوگ بقول رہبرمعظم برطانوی نمائشی شیعہ ہیں ۔
تیونس ٹیلی ویژن کے ڈایریکٹر غفران الحسینانی نے میڈیا سازش کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیونس علما کو سعود عرب میں دعوت دیکر یہاں بھی سلفی افکار پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے مگر خدا کے فضل سے تیونسی عوام میں وہابیت پنپنے سے قاصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پی ایچ ڈی میں ملاصدرا اور تفسیر کے حوالے سے کام کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے شیعہ علما کے نظریے بہت مفید واقع ہوسکتے ہیں۔
ایرانی سفیر نے اس موضوع کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکے لیے دورہ ایران اور علما سے استفادے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایرانی مرکز ہر ممکن تعاون کے لیے آمادہ ہے ۔