IQNA

16:10 - March 06, 2017
خبر کا کوڈ: 3502621
بین الاقوامی گروپ: صوبہ پنجاب ميں پوليس نے شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف وسيع تر کارروائياں کرتے ہوئے قريب تيرہ سو مشتبہ جنگجوؤں کو حراست ميں لے ليا ہے جب کہ اس دوران کم از کم تين درجن جنگجو مارے بھی جا چکے ہيں۔
پنجاب دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے

ایکنانیوز- شفقنا - پنجاب پوليس کے دو اہلکاروں نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے پی کو بتايا کہ شدت پسند عناصر کے خلاف قريب دو ہفتوں سے جاری آپريشن ميں اب تک چھتيس جنگجو مارے جا چکے ہيں۔ يہ جنگجو نيم فوجی دستوں اور پوليس اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے مختلف واقعات ميں ہلاک ہوئے۔ پنجاب پوليس کے مطابق صوبے ميں موجود پناہ گاہوں پر متعدد چھاپے مارے گئے اور اس دوران قريب تيرہ سو مشتبہ جنگجوؤں کو حراست ميں بھی لے ليا گيا۔

 

یاد رہے کہ نواز حکومت اور پنجابی سياست دان پورے ملک خاص کر پنجاب ميں جہادی تنظیموں کی موجودگی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تاہم مبینہ طور پر یہاں  متعدد جنگجو گروپ سرگرم ہيں۔ صوبہ سندھ ميں سيہون شريف کے مزار پر گزشتہ ماہ کيے جانے والے حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹيٹ نے قبول کی تھی۔ اس حملے ميں اٹھاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ زخميوں کی تعداد تين سو سے زائد تھی۔

 

خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی رپورٹوں کے مطابق پنجاب ميں آپريشن صوبائی وزير قانون رانا ثناء اللہ کی طرف سے چند دہشت گرد گروپوں کے دفاع کے باوجود جاری ہے۔ ماضی ميں وزير قانون کچھ ايسی متنازعہ شخصيات کا بھی دفاع کر چکے ہيں، جن کے بارے ميں مانا جاتا ہے کہ وہ مذہبی فرقوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے  ميں ملوث رہے ہيں۔

 

نيوز ايجنسی ايسوسی ايٹڈ پريس کے ساتھ ايک انٹرويو ميں رانا ثناء اللہ نے بھارت مخالف گروپوں کے ليے ’دہشت گرد‘ لفظ کے استعمال پر بھی سوال اٹھايا۔ ايسا ہی ايک گروپ لشکر طيبہ ہے، جو آج کل جماعت الدعوۃ کے نام سے فعال ہے۔ اس گروپ کے امير حافظ سعيد کو امريکا دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور ان کے سر کی قيمت دس ملين ڈالر ہے۔ حافظ سعيد پر بھارتی زير انتظام کشمير ميں حملوں ميں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ ہی حافظ سعيد کو نظر بند رکھنے کا اعلان کيا ہے۔

 

اس کے باوجود وزير قانون رانا ثناء اللہ نے حافظ سعيد کے خلاف الزامات پر سواليہ نشان لگا ديا۔ جماعت الدعوۃ کے امير اور ان کے حاميوں کے بارے ميں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ان کا تعلق کشمير سے ہے۔ وہ يہ سمجھتے ہيں کہ کشمير ميں بھارتی مظالم ناقابل قبول ہيں۔‘‘ رانا ثناء اللہ نے يہ بھی کہا کہ سعيد کو پاکستانی عدالتيں ناکافی شواہد کی بناء پر دو مرتبہ رہا کر چکی ہيں۔

 

صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر بہاولپور میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر بھی بدستور اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی میں مطلوب ہیں لیکن حکومت پاکستان ان کے مدرسے کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے لیے تیار نہیں۔یاد رہے کہ مولانا مسعود اظہر کے لیے پاکستانی ریاست نے چین سے درخواست کروا کر ان کو دہشت گرد قراردینے کی ا قوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کروایا ہے ۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: