
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «KTimes» کے مطابق آذان کے الفاظ اور معنی سے تو وہ نا آشنا تھے مگر خوبصورت طرز اور لحن نے اسے کافی متاثر کیا
انکا کہنا ہے : واقعا شاعرانہ اور معنویت سے لبریز ہے
اسکے بعد اپنے ملک کی نزدیکی مسجد سے مغرب کی آذان سننا انکا معمول بن گیا
عیسائی والدین کے باوجود وہ آذان سے اسقدر متاثر ہوا کہ اسلام کی گہرائی سے مطالعے پر مجبور ہوا اور پھر اس نے اس پر عمل شروع کیا.
اسلام کے بارے میں نادرست باتوں کی حقیقت جاننے کے لیے بھی مطالعہ ضروری تھا
وہ کہتا ہے : لوگ اللہ اکبر کو دہشت گرد کی آواز سمجھتا تھا
پھر میں نے اندازہ لگایا کہ یہ خیال غلط تھا اور مذاہب آپس میں بہت نزدیک ہیں اگر لوگ دوستی اور محبت کے پیغام کو سمجھیں۔
مالک نے قرآن کا باقاعدگی سے مطالعہ شروع کردیا اور پھر ۱۰ اکتوبر سال ۲۰۱۰ کو اسلام قبول کرلیا۔
میں نے قران کے رو سے اپنے لیے مالک کے نام کا انتخاب کیا۔
مالک کہتا ہے : میں نے کلمہ توحید پڑھا اور مجھے لگا کہ میں دوبارہ پیدا ہوا ہوں ، یہ سب کچھ آذان سے شروع ہوا۔