
ایکنا نیوز- سعودی اخبار «جهینة الاخباریة» میں میثم المعلم شهید آل هانی کے حوالے سے «شهید قرآن؛ آیڈیل شخصیت» کے عنوان سے انکی قرآنی اور کامیاب اجتماعی سرگرمیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے
وہ انکی تیس سالہ قرآنی خدمات کو اہم کارنامہ قرار دیتے ہوئے انہیں نسل جوان کے لیے اہم آیڈیل شخصیت قرار دیتا ہے
اور لکھتا ہے :استاد شهید امین آل هانی ایک بہترین متقی کردار کے ساتھ دن رات قرآںی افکار کی ترویج میں مگن رہتے تھے
اور بلاشبہ ایک ایسے باکردار قرآنی دانشور کے چلے جانے سے خلیج فارس کا علاقہ ایک بہترین انسان سے محروم ہوگیا ہے.
شهید آل هانی اجتماعی میدان میں بھی ملنسار، خوش اخلاق اور باکردار انسان تھے اور جو ان سے ملتا انکی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکتا، انکے رشتہ داروں اور دوستوں کا کہنا ہے کہ جتنا ہم ان سے قریب ہوتے اسی قدر انکی شخصیت میں جذب ہوجاتے۔
وہ رسول اکرم کی حدیث پرپورا اترتے جسکے مطابق سب سے اچھا انسان وہ ہے جسکا اخلاق سب سے اچھا ہے اور امیرالمؤمنین فرماتے ہیں کہ اسطرح سے جیو کہ جب مرو تو لوگ تم پر رویے ، آل ہانی ایسے ہی تھے۔
علمی میدان میں بھی مختلف جدید و قدیم قرآنی علوم میں انکی کاوشیں قابل تحسین ہیں
ہردلعزیز آل ہانی ماہر مصنف، توانا خطیب اور خوش اخلاق دانشور تھے ، آخری دنوں فیس بک پر لکھا تھا: تم اپنی اولاد سے عشق کا اظھار کرو، وہ بدل جائے گی ، اپنے شاگرد سے ، اپنی بیوی سے ، اپنے باس سے ، کسی سے بھی اظھار کرو انکا رویہ بدل جائے گا اور جو چیز سختی سے نہیں مل سکتی وہ عشق اور نرمی سے حاصل ہو سکتی ہے.
استاد امین آل هانی اہم خدمات کے بعد شہادت کے درجے پر فایز ہوئے اور بلاشہ تمام جاننے والوں کو سوگوار کرگیے ہیں ،
خداحافظ اے شهید، خداحافظ اے با وفا بھائی، خداحافظ عظیم معلم اور بااخلاص انسان ۔
خدا کی تم پر رحمت ہو اور دعا ہے کہ خدا تمھیں جوار انبیاء اور جوار اہل بیت میں محشور فرمائے ۔