IQNA

19:22 - December 09, 2017
خبر کا کوڈ: 3503918
بین الاقوامی گروپ:غیر ملکی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب بادشاہ ملک سلمان ، مصرکے صدر السیسی اور امارات کے بادشاہ سے مشورہ کے بعد بیت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے

ایکنا نیوز-مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ڈیلی پاکستان نے اسرائیل کے ٹی وی چینل 10 کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے بادشاہ ملک سلمان ، مصرکے صدر السیسی اور امارات کے بادشاہ سے مشورہ کے بعد بیت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے پہلے کچھ عرب  ممالک کے رہنماؤں  سے مشورہ کیا تھا جسکے بعد انہوں نے اپنے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق  جن ممالک سے امریکی صدر ٹرمپ نے مشورہ کیا ان  میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر شامل ہیں ۔ جماعت اسلامی کے رہنما کے مطابق امریکہ کا کہنا ہے کہ اس  نے اعلان سے قبل مسلمان ممالک سے مشاورت کی ہے۔ اس نقطے پر مجھے حیرت بھی ہوئی۔ جماعت اسلامی کے رہنما عبدالعزیز غفار سے بھی دوبارہ پوچھا گيا۔ اسرائیل کے چینل 10کی نشریات میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جن مسلمان ممالک کا ذکر کیا ہے ان میں سب سے پہلے سعودی عرب کا نام آتا ہے، محمد بن سلمان کچھ عرصہ سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر روابط رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنی بادشاہت کو مستحکم کرنے کےلئے کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کی درپردہ مدد حاصل کر سکیں گے۔ محمد بن سلمان کے علاوہ متحدہ عرب امارات کا نام لیا جا رہا ہے کہ یہ بھی مشاورت کیے جانے والے مسلم ممالک میں شامل ہے تیسرے نمبر پر مصر کا نام اسی چینل نے لیا ہے۔ مصری صدر السیسی اس قدر امریکہ کے مرہون منت ہیں کہ مصر کے صدر مرسی کو قید کیا گیا انہیں سزا سنائی گئی۔ امریکہ نے جمہوریت کا ساتھ دینے کی بجائے الٹا السیسی کو بھرپور مالی امداد فراہم کی۔ جنرل السیسی نے ریاست کی طرف سے اپنا سب سے بڑا اعزاز ٹرمپ“ کو پیش کیا ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ اور خادم الحرمین الشریفین نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گراانقدر اعزازات سے نواز چکے ہیں  اور اس کے ساتھ باقاعدہ ڈانس بھی کرچکے ہے ۔ ادھر عرب ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے فلسطین اور مسلمانوں کے خلاف غداری کا پرچم اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے اور عالم اسلام میں بھر پور طریقہ سے منافقت پھیلا رہا ہے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے تیل کی دولت کا بے تحاشا استعمال کررہا ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: