IQNA

16:07 - December 13, 2017
خبر کا کوڈ: 3503939
بین الاقوامی گروپ:اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے فلسطین کے تنازع کو جلد حل کرنے کا مطالبہ کردیا

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں ہوا۔

 

او آئی سی کے اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے خطاب میں اسرائیل کو ’دہشت گرد‘ ریاست قرار دیا۔

 

ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جب کہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے اور فیصلے کو صرف اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔

 

 

انہوں نے مز ید کہا کے فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے جب کہ امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر انہیں تحفہ دینے کے مترادف ہے۔

 

رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

 

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکا اس فیصلے کے بعد فلسطینی تنازع میں ثالث کی حیثیت کھو چکا ہے اس لیے اقوام متحدہ فلسطین سے متعلق تنازع میں اپنا کردار ادا کرے‘۔

 

ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا امریکا کا اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں خاص طور پر یو این ایس سی آر 478 کی خلاف ورزی ہے۔

 

اجلاس میں امریکا کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر غور کیا گیا۔

 

بعد ازاں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں فلسطینی صدر محمود عباس، اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، آذربائیجان کے صدر الہام الیو، ایرانی صدر حسن روحانی اور بنگلہ دیش کے صدر عبدالحامد سمیت 22 اسلامی ممالک کے سربراہان اور 25 ممالک کے وزرائے شرکت کرکت کی۔

 

کانفرنس میں مصر، متحدہ عرب امارات، مراکش اور قازقستان کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے جب کہ سعودی عرب کی جانب سے اسلامک افئیر کے وزیر صالح بن عبدالعزیز الشیخ ریاض کی نمائندگی کررہے تھے۔

 

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی او آئی سی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کررہے جب کہ ان کے وفد میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف بھی شامل ہیں۔

 

اجلاس کے بعد وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے ترک وزیر خارجہ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کیں۔

 

واضح رہے کہ 57 رکنی تنظیم او آئی سی کی صدرات ترکی کررہا ہے اور گذشتہ روز ترک صدر طیب اردوگان اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کے اعلان کو خطے کے امن کے لیے خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی اقدام سے مشرق وسطیٰ ایک نئی آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

 

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہا تھا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکا کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

 

ان کا کہنا تھا ’یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے لیے علاوہ اور کچھ نہیں، میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں‘۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں بلخصوص مسلم ممالک میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور ترکی میں امریکی سفارتحانے کے سامنے احتجاجی مظاہرین نے ٹرمپ کا پتلہ بھی جلا ڈالا تھا۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: