
ایکنا نیوز- جرمنی میں شائع ہونے والے ہفت روزہ ایرانی میگزین کے شمارہ نمبر ۳۵۸ کے مطابق جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرایم کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین واقعے میں هاله(Halle کی مسجد اور ثقافتی مرکز پر فایرنگ کو شمار کیا جاسکتا ہے۔
جرمنی میں مسلم کونسل کے سربراہ ایمان مازیک نے واقعے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
مسلم کونسل کے مطابق ہالہ مسجد پر فائرنگ ممکنہ طور پر مسجد کی ساتھ والی بلند عمارتوں سے کی گیی ہے۔
فایرنگ کے نتیجے میں مسجد میں درس کے لیے آنے والا ایک جوان زخمی ہوچکا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ھالہ ثقافتی مرکز اور مسجد پر اب تک دو تین بار نفرت انگیز حملوں کے واقعات رونما ہوچکے ہیں جنمیں مسجد کی دیواروں پر وال چاکنگ، نمازیوں پر حملہ اور ان جیسے دیگر واقعات شامل ہیں
مسلم کونسل نے «زاکسن آنهالت»(Saxony-Anhalt) کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر علاقے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرایم روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
ایمان مازیک نے کہا کہ ان حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی اقدار کوجرمنی میں خطرات درپیش ہیں اور تمام مقتدر حلقوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے/.