IQNA

8:29 - January 15, 2019
خبر کا کوڈ: 3505622
بین الاقوامی گروپ- معروف قاری شحات انور کی برسی پر انکی یاد میں مجلس منععقد کی گیی۔

ایکنا نیوز- خبررساں ادارے الیوم السابع کے مطابق مصر کے عالمی شہرت یافتہ قاری شیخ شحات محمد انور کی گیارویں برسی کے موقع پر انکی یاد میں ایک تعزیتی تقریب منعقد کی گیی۔

 

عالم اسلام کا یہ معروف قاری  ۱۳ جنوری  سال ۲۰۰۸ کو دار فانی سے کوچ کرگیے تھے۔

 

شیخ شحات  سال ۱۹۵۰ کو مصر کے گاوں «دقهلیه» میں پیدا ہوئے تھے اور تین مہینے کی عمر میں والد کے سایے سے محروم ہونے کے بعد دادا کے ہاتھوں تربیت پائی اور انکے ماموں شیخ حلمی مصطفی دائی سے حفظ سیکھا جبکہ تجوید کا درس «شیخ علی سید فرارجی» سے حاصل کیا۔

 

خداداد صلاحیتوں کے باعث انہوں نے جلد ہی بہترین تلاوت سے لوگوں کو متوجہ کیا اور انہیں لوگ « چھوٹے شیخ » کے لقب سے پکارنا شروع کیا۔

 

شیخ شحات کا کہنا تھا: «ایک دوست نے ایک دن مجھ سے کہا کہ ایک مجلس فاتحہ جو مسجد «الزنفلی» میں منعقد کی گیی ہے وہاں پر اعلی حکام کی موجودگی میں تمھیں تلاوت کی دعوت دی گیی ہے۔ وہاں پر ریڈیو کے سربراہ نے میری تلاوت سنی تو کہا کہ تم ریڈیو پر تلاوت کیوں نہیں کرتے اور پھر مجھے سال ۱۹۷۶ کو ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا».

ریڈیو میں ماہرین کی کمیٹی نے کہا کہ تمھیں اعلی تعلیمات حاصل کرنا ہوگا اور پھر دو سال حصول علم کے بعد بعد سال ۱۹۷۹ میں دوبارہ مجھے بلا کر رسمی طور پر منتخب کیا گیا.

 

شیخ محمد شحات محمد انور کے نو بیٹوں میں سے دو بیٹے قرآنی شعبے کی جانب مایل ہیں اور اس حوالے سے وہ مصروف عمل ہیں۔

 

شیخ محمود شحات انور کا کہنا ہے کہ میرے والد کا  شیخ محمد متولی الشعراوی سے قریبی تعلق تھا اور وہ مسجد «قاسم» شهر میت غمر میں انکے درس تفسیر میں تلاوت کرتے تھے۔

مصر؛ قاری «شحات انور» کی یاد میں تقریب

انکا کہنا ہے کہ ایک دن تلاوت کے دوران میرے والد شدت سے گریہ کرتے ہیں اور جب شعراوی ان سے رونے کا سبب پوچھتے ہیں تو والد کہتا ہے کہ میں نے فرشتوں کو مسجد میں پرواز کرتے دیکھا۔

 

دنیا کے مختلف ممالک جیسے ایران، لبنان، انگلینڈ، امریکا، ارجنٹاین، اسپین، بیلجیم، فرانس، برازیل، تنزانیہ، مالدیپ، کیمرون وغیرہ میں شیخ محمد شحات تلاوت کرچکے ہیں اور سال ۲۰۰۱ کو سعودی عرب میں «ملک فیصل» قرآنی مقابلہ اپنے نام کرچکے ہیں۔/

3781048

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: