سعودی عرب میں خواتین قیدیوں پرتشدد کا انکشاف، برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا انتباہ

IQNA

سعودی عرب میں خواتین قیدیوں پرتشدد کا انکشاف، برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا انتباہ

15:02 - January 26, 2019
خبر کا کوڈ: 3505668
بین الاقوامی گروپ- انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں سعودی عرب کی جیلوں میں قید انسانی حقوق کی رضاکار خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا انکشاف کیا ہے۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق ایمنسٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خواتین قیدیوں پر جنسی حملے کیے گئے، بجلی کے جھٹکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس طرح کوڑے مارے گئے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں رہ پاتیں۔

 

برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق مذکورہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ نے ریاض پر دباؤ ڈالا ہے کہ انہیں قیدیوں تک رسائی دی جائے۔

 

 

ایمنسٹی کے مطابق تفتیش کاروں نے ایک خاتون قیدی سے جھوٹ بولا کہ تمہارے سارے گھر والے مرچکے ہیں، جس پر وہ ایک ماہ تک شدید رنج میں مبتلا رہیں۔

 

ایک دوسری خاتون کو خفیہ جیل میں رکھنے کا انکشاف سامنے آیا جہاں انہیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے اور کوڑے مارے جاتے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پاتیں، اس کے علاوہ ان پر واٹر بورڈ کا تشدد بھی کیا گیا۔

 

 

واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ برس مئی سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی رضاکاروں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے جن میں وہ عزیزہ الیوسف اور لجین الھذلول بھی شامل ہیں جو خواتین کے ڈرائیونگ کے حق اور مرد سرپرستی کے خاتمے کے لیے مہم چلاتی تھیں۔

 

تاہم ان گرفتار خواتین کو باضابطہ طور پر ملزم قرار دیا گیا اور نہ ہی ان پر اب تک نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا اس کے علاوہ انہیں کوئی قانونی نمائندگی بھی حاصل نہیں۔

 

یہ ہولناک رپورٹ سامنے آنے کے بعد برطانوی قانون سازوں اور بین الاقوامی وکلا نے سعودی عرب کو خواتین قیدیوں تک رسائی دینے کے لیے اس ماہ کے اختتام تک کا انتباہ دیا۔

 

نظرات بینندگان
captcha