IQNA

15:13 - September 15, 2019
خبر کا کوڈ: 3506625
بین الاقوامی گروپ- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو فون کر کے سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کردی۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد محمدبن سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشتگردوں سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹیلفونک رابطے کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے یمن سے ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے، عالمی برادری اس کی مذمت کرے'۔

امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے بھی ایران پرالزام لگاتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے جواب میں ایرانی آئل تنصیبات پر بمباری کی جانی چاہیے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب نے حملوں کا نشانہ بننے والے دونوں پلانٹس سے تیل کی پیداوار عارضی طور پر روکنے کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ڈرون حملوں سے آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صبح 4 بجے آرامکو کی صنعتی سیکیورٹی ٹیموں نے ڈرون حملے کے نتیجے میں ابقیق اور خریس کی سہولتوں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے کام شروع کردیا تھا جبکہ واقعے میں کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں حملے آوروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی اور کہا کہ وہ ابھی اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے دس ڈرونز کی مدد سے ان دو آئل فیلڈز پر حملہ کیا تھا۔

حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: