IQNA

8:18 - October 02, 2019
خبر کا کوڈ: 3506701
بین الاقوامی گروپ- امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد افغان مفاہمتی عمل کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے ساتھ بات کے لیے منگل کے روز پاکستان پہنچے۔

ایکنا نیوز-ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب حال ہی میں28 ستمبر کو افغانستان میں صدارتی انتخابات ہوئے ہیں جو کم ترین ووٹنگ ٹرن آؤٹ اور پر تشدد واقعات سے متاثر رہے۔

پاکستان کی جانب سے افغان صدارتی انتخابات میں ووٹنگ ڈالنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی گئی تھی کہ نئی حکومت تعطل کا شکار امن عمل کو آگے بڑھانے میں مکمل مینڈیٹ سے استفادہ کرے گی۔

دوسری جانب امریکا میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان رہنما ملا برادر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ سے اسلام آباد لانے کی کوشش کررہا تھا تا کہ ممکنہ طور پر زلمے خلیل زاد سے ملاقات کروائی جاسکے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتیجے میں ووٹ کی گنتی کا مرحلہ مکمل ہونے میں 3 ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

تاہم ابتدائی اشاروں کے مطابق یہ عمل انتخابات میں حصہ لینے والوں کے مابین اسی طرح کی سیاسی محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے جو 2014 میں دیکھی گئی تھی، اس میں اہم امیدواروں نے پہلے ہی کامیابی کے دعوے کرنے شروع کردیے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے مابین کئی ماہ سے جاری امن مذاکرات کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے قریب تھے۔

تاہم کابل میں طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد میں ایک امریکی فوجی بھی شامل ہونے کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عسکریت پسند گروہ اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی۔

بعدازاں امریکی کانگریس کمیٹی کی جانب سے طلب کیے جانے پر زلمے خلیل زاد نے اراکین کانگریس کو ایک خفیہ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ ختم ہوچکا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: