IQNA

13:31 - October 05, 2019
خبر کا کوڈ: 3506711
بین الاقوامی گروپ-اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ستمبر کے آخر میں پہلی بار عام سیاحت کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکی خواتین کو عبایا پہننے سے بھی آزاد قرار دیا تھا۔

ایکنا نیوز - ڈان نیوز کے مطابق سعودی عرب نے غیر ملکیوں کی سیاحت کے لیے توجہ حاصل کرنے کی غرض سے انہیں مزید آسانیاں دینے کا اعلان کردیا۔

سعودی عرب کی حکومت نے سیاحت کے لیے آنے والے غیر ملکی نامحرم مرد و خواتین کو ہوٹل میں ایک ہی کمرہ لینے کی اجازت دے دی۔

 

نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی غیر ملکی مرد یا خاتون کرائے پر ہوٹل لینے کے بعد اپنے ساتھ کسی بھی غیر ملکی مخالف جنس کے شخص کو رکھ سکتا ہے۔

سعودی حکومت نے سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی غیر ملکی خاتون کو کرائے پر ہوٹل حاصل کرنے اور اپنے ساتھ نامحرم شخص کو ساتھ رکھنے کی اجازت دے دی۔

نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی غیر ملکی مرد سیاح بھی کمرہ حاصل کرنے کے بعد اپنے ساتھ کسی بھی نامحرم خاتون کو رکھ سکے گا اور اسے اس بات کے دستاویزات بھی فراہم نہیں کرنے پڑیں گے کہ خاتون کا ان کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

رپورٹ میں عربی اخبار ’اوکاز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سعودی عرب کی ’کمیشن فار ٹوئرزم ایںڈ نیشنل ہیریٹیج‘ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اب کسی بھی غیر ملکی مرد یا خاتون کو کمرے میں کسی نامحرم کو ساتھ رکھنے پر کوئی دستاویزات پیش نہیں کرنے پڑیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودیہ میں سعودی خواتین کو لاینسیس جاری کرنے کے بعد ڈانس کلب ، قمار خانے جیسے اقدامات کے بعد مزید اقدامات کی توقع کی جارہی ہیں ، سلسلہ کہاں رکتا ہے خدا جانے ۔۔

نام:
ایمیل:
* رایے: